
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س):۔
دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات کے دوران اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے کارکنوں پر اپنے ایک کارکن کے گھر پر منصوبہ بند حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اے بی وی پی کے مطابق، اس کے کارکنوں نے موقع سے فرار ہونے والے ایک مبینہ حملہ آور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص نے خود کو این ایس یو آئی کا سوشل میڈیا کارکن بتایا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ واقعہ یونیورسٹی کے علاقے میں ہری مندر کے قریب واقع اے بی وی پی کارکنوں کی رہائش گاہ پر پیش آیا۔ اس وقت گھر میں طلبہ کارکنوں کے ساتھ طالبات بھی موجود تھیں اور وہ ایک پ±رامن اجلاس میں مصروف تھے۔
اے بی وی پی کا الزام ہے کہ باہر سے آئے این ایس یو آئی کارکنوں نے بغیر کسی اشتعال کے اچانک اجلاس پر حملہ کر دیا۔ حملے کے بعد کئی مبینہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے، جب کہ ایک شخص کو کارکنوں نے روک کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
اے بی وی پی دہلی کے ریاستی وزیر سارتھک شرما نے واقعے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری طلبہ سیاست کو تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ایس یو آئی کے کارکن اے بی وی پی کارکنوں کی رہائش گاہ تک کیوں پہنچے اور طالبات کی موجودگی کے باوجود حملہ کیوں کیا گیا۔
شرما نے الزام لگایا کہ جب طلبہ کے درمیان رابطے اور عوامی حمایت کا فقدان محسوس ہوتا ہے تو کانگریس، انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) اور این ایس یو آئی سے وابستہ سیاسی عناصر طلبہ سیاست میں تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔
انہوں نے کانگریس قیادت سے اپنی طلبہ اور نوجوان تنظیموں کی سرگرمیوں کے لیے جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے بی وی پی کسی بھی قسم کے پ±رتشدد دباو¿ کے سامنے نہیں جھکے گی۔
شرما نے دہلی پولیس سے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، حملے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ