
واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س/ریا نووستی)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یورپی یونین (ای یو) کوانتبادہ دیا ہے کہ اگر کینیڈا کو بلاک کا ’ایسوسی ایٹ ممبر‘ بنانے کا منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو امریکہ یورپ پر بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے اور بعض شعبوں میں تجارت روکنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ای یو کی اس تجویز کو ممکنہ طور پر ’دشمنانہ اقدام‘ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ای یو کے ارادے اچھے ہوئے تو صورت حال مختلف ہوگی، لیکن اگر نیت خراب ہوئی تو یورپ کو بھاری محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے بدھ کو کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی موجودگی میں کینیڈا کو ای یو کا پہلا ’ایسوسی ایٹ ممبر‘ بنانے کی تجویز پیش کی۔ یہ پہل ای یو اور کینیڈا کے تعلقات کو موجودہ تجارتی معاہدے سے آگے بڑھانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
وان ڈیر لیین نے دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی، اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر سکیورٹی اور آرکٹک سمیت اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بات کہی ہے۔کینیڈا کے پہلے ہی ای یو کے ساتھ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) کے تحت تجارتی روابط ہیں۔ حالانکہ مجوزہ ’ایسوسی ایٹ رکنیت‘ کی تفصیلی شرائط ابھی طے نہیں ہوئی ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ نئے بندوبست کے تحت کینیڈا کو ای یو کی سنگل مارکیٹ تک کس قدر رسائی حاصل ہوگی اور اسے یورپ کے کن قوانین کو اپنانا ہوگا۔
کینیڈین حکومت نے ای یو کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کارنی اور وان ڈیر لیین کے درمیان اہم معدنیات، دفاعی صنعت، توانائی، اے آئی، خلائی شعبے اور مالیاتی خدمات میں تعاون کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے درمیان اوٹاوا یورپ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو وسعت دینے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی وارننگ سے امریکہ اور ای یو کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم کارنی جمعرات کو یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد کینیڈا اور ای یو کے درمیان مجوزہ نئے تعلقات کی تفصیلات کے حوالے سے مزید بات چیت متوقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد