
واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س)۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اگلے منگل کو خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے رہنماوں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کی صورتحال اور جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ کی حکمت عملی پر بات چیت ہو سکتی ہے۔
امریکی نیوز ویب پورٹل ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد مغربی ایشیا کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں ایران کو روکنے کے لیے امریکی اتحادیوں کا علاقائی اتحاد قائم کرنے اور امریکہ کی جانب سے سکیورٹی ضمانت فراہم کرنے جیسے آپشنز شامل ہیں۔
جنگ کے بعد کی ممکنہ حکمت عملی میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والے بحران کو ختم کرنے کی کوششیں بھی شامل بتائی جا رہی ہیں۔ ان میں غزہ کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانا، اسرائیل اور شام کے درمیان سکیورٹی معاہدہ اور اسرائیل-لبنان معاہدے پر عمل درآمد شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ ابراہم معاہدوں کی توسیع اور سعودی عرب و اسرائیل کے درمیان ممکنہ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کو آگے بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے۔
ملاقات میں ممکنہ طور پر ان چھ ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات کا دائرہ بڑھا کر دیگر عرب اور مسلم ممالک کے رہنماو¿ں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم وائٹ ہاو¿س نے مجوزہ ملاقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تاہم ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ابھی تک کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ امید ہے کہ ہم جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کو یہ بات براہِ راست ایران کی جانب سے سننے کو ملی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے بعد کی حکمت عملی کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ ٹرمپ اور ان کے سینئر مشیروں کے درمیان اس معاملے پر حالیہ ہفتوں میں کم از کم دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ حکمت عملی تیار کرنے میں مزید چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی