امریکی ایوان نمائندگان نے روس-ایران پر پابندیوں والا بل منظور کیا ، بھارت-چین پر 100 فیصد تک محصولات عاید کرنے کی شق
واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س)۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے روس اور ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ’لنڈسے او گراہم سَینکشننگ رَشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ کو 159 کے مقابلے 262 ووٹوں سے منظور کرلیا۔ یہ بل اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لی
امریکی ایوان نمائندگان نے روس-ایران پر پابندیوں والا بل منظور کیا ، بھارت-چین پر 100 فیصد تک محصولات عاید کرنے کی شق


واشنگٹن، 17 ستمبر (ہ س)۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے روس اور ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ’لنڈسے او گراہم سَینکشننگ رَشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ کو 159 کے مقابلے 262 ووٹوں سے منظور کرلیا۔ یہ بل اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک آر ٹی اور ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، بل کے حق میں 203 ری پبلکن اور 58 ڈیموکریٹک اراکین نے ووٹ دیا، جبکہ سات ری پبلکن اور 152 ڈیموکریٹک اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی اسے 86-11 کی بھاری دو طرفہ اکثریت سے منظور کرچکی ہے۔

بل کے قانون بننے کے بعد صدرٹرمپ کو ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جو روس سے بڑی مقدار میں تیل یا گیس خریدتے ہیں یا روس کو پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس شق کے ممکنہ اثرات بھارت اور چین پر پڑنے کے حوالے سے خاصی بحث جاری ہے، کیونکہ دونوں ممالک روس سے بڑی مقدار میں خام تیل خریدتے ہیں۔ تاہم، بل میں بعض حالات میں چھوٹ اور محصولات سے بچنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

مجوزہ قانون میں روس سے منسلک حکام، اولیگارکس، ان کے خاندان کے افراد، غیر ملکی شخصیات، روسی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر بنیادی اور ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کا مقصد روسی معیشت اور یوکرین جنگ کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھانا ہے۔

بل میں ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں کو مزید توسیع دینے کی بھی شق شامل ہے۔ اس کے تحت ایران کے توانائی اور ہتھیاروں کے شعبوں سے متعلق پابندیوں کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے۔

بل کی مخالفت کرنے والے کچھ ڈیموکریٹک اراکین نے صدر ٹرمپ کو دیے جانے والے وسیع محصولات اختیارات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے صدر کو تجارتی پالیسی میں بہت زیادہ اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں اور امریکی معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب، بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ روس سے منسلک ممالک پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ٹیرف ایک مؤثر اضافی ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس قانون کا نام مرحوم ری پبلکن سینیٹر لنڈسے او گراہم کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ گراہم روس کے خلاف سخت پابندیوں اور یوکرین کی حمایت کے نمایاں حامی رہے تھے اور اس قانون سازی کے ابتدائی حامیوں میں شامل تھے۔

اب یہ بل صدر ٹرمپ کے پاس ہے۔ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بعض ممالک پر اضافی امریکی محصولات عاید کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande