
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔
اسیما اہلاوت کے لیے شوٹنگ کا سفر پڑھائی سے شروع ہو کر ایشیائی کھیلوں تک پہنچا ہے۔ 22 سالہ اسیما نے 18 سال کی عمر میں پستول سے نشانہ بازی شروع کی تھی، لیکن بعد میں انہوں نے شاٹ گن کو اپنا کھیل منتخب کر لیا۔ یہ تبدیلی انہوں نے اپنی ماں سے کیے گئے ایک وعدے کے بعد کی تھی۔
اسیما کی والدہ نے انہیں شوٹنگ میں کیریئر بنانے کی اجازت دینے سے پہلے شرط رکھی تھی کہ وہ پڑھائی میں اچھے نمبر حاصل کریں۔ اسیمانے بارہویں جماعت کے بورڈ امتحان میں 98.6 فیصد نمبر حاصل کرکے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اب چار سال بعد ہریانہ کے روہتک کی رہنے والی اسیماآئچی-ناگویا ایشیائی کھیلوں میں اپنا ڈیبیو کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسیما کا کھیلوں سے جڑنے کا سفر بھی کافی دلچسپ ہے۔ تعمیراتی کاروبار سے وابستہ خاندان میں پلی بڑھی اسیما 2018 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کو دیکھنے کے بعد نشانہ بازی کی جانب راغب ہوئیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا:”مجھے یاد ہے کہ اسٹیج پر منو بھاکر اور حنا سدھو کو دیکھ کر میں نے سوچا تھا کہ میں بھی کسی دن ایسا محسوس کرنا چاہتی ہوں۔“
اسیما کے اس سفر میں ان کی والدہ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ”میری ماں نے مجھے صرف اجازت ہی نہیں دی بلکہ اس کے لیے بہت کچھ قربان بھی کیا۔ وہ روہتک سے دہلی منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے ہمارے خاندانی کاروبار کو بھی منتقل کیا تاکہ میں اچھی طرح تربیت حاصل کر سکوں۔ میں اس بات کو معمولی نہیں سمجھتی۔“
شوٹنگ کے ابتدائی برسوں میں بھی اسیما کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی پہلی شاٹ گن اور گولہ بارود کا انتظام ہونے میں تقریباً آٹھ ماہ لگ گئے۔
انہوں نے کہا:”تمغہ ہی یہ بتانے کا واحد ذریعہ نہیں ہے کہ آپ نے زندگی میں کتنا سفر طے کیا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا:”اگر کچھ ٹھیک نہیں ہوتا تو میں اپنی غلطی تلاش کرتی ہوں، اسے درست کرتی ہوں اور پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ واپسی کرتی ہوں۔“
یہی سوچ 2024 میں پیرو میں منعقدہ عالمی چیمپئن شپ میں بھی ان کے کام آئی۔ اپنے جونیئر کیریئر کے آخری سال میں ایک غلط حساب کی وجہ سے وہ آخری نشانے سے محروم رہ گئیں اور چوتھے مقام پر رہیں۔ اس کے چند ہفتوں بعد انہوں نے دہلی میں منعقدہ عالمی یونیورسٹی چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت کر اپنی ذاتی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا:”گزشتہ دو برسوں میں نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے کیمپوں سے مجھے جو تجربات اور مواقع ملے ہیں، ان کے بغیر مجھے نہیں لگتا کہ میں اتنی تیزی سے آگے بڑھ پاتی۔“ نشانہ بازی کے دوران ذہنی دباو¿ سے نمٹنے کے لیے اسیما نے اپنا ایک منفرد طریقہ اختیار کیا ہے۔
ایشیائی کھیلوں کے لیے ہدف
آئچی-ناگویا ایشیائی کھیلوں کے حوالے سے اسیما کا مقصد بھی واضح ہے۔ انہوں نے کہا:”میرا منصوبہ نشانہ بہ نشانہ آگے بڑھنے کا ہے۔ میں پورے وقت تمغے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتی۔ میں صرف موجودہ لمحے میں رہنا اور اس عمل سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں۔“
مستقبل کے بارے میں انہوں نے کہا:”میرا اگلا بڑا ہدف دوبارہ ٹیم میں جگہ بنانا، اولمپک کوٹہ حاصل کرنا اور اولمپکس میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنا ہے۔ یہی وہ خواب ہے جس کا میں اب تعاقب کر رہی ہوں۔“
ہندوستھان سماچار
ن
---------------
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ