
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام عائد کیاہے کہ ’نو فیس آن یو پی آئی‘ کے موجودہ نظام کو تبدیل کرتے ہوئے دو ہزار روپے تک کے یو پی آئی لین دین کو فیس سے مستثنیٰ رکھنے اور اس سے زیادہ رقم کے لین دین پر فیس عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پانچ ہزار روپے کے لین دین پر 25 روپے اور 10 ہزار روپے کے لین دین پر 50 روپے تک ممکنہ فیس عائد کیے جانے کی خبروں پر وضاحت طلب کی ہے۔
کھرگے نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مہنگائی کے باعث عام آدمی کی جیب پہلے ہی خالی ہے۔ تھوک مہنگائی تقریباً 10 فیصد ہے اور ایسے وقت میں یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے سے عوام کی بچت پر مزید بوجھ پڑے گا۔نوٹ بندی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 سال قبل نوٹ بندی کے ذریعے معیشت کو دھچکادیا گیا تھا۔ جب اس کے نتائج پر سوال اٹھائے گئے تو حکومت نے اسے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور نقدی سے پاک معیشت کو فروغ دینے کی سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا تھا۔
کھرگے نے کہا کہ وزیر خزانہ نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ یو پی آئی پر کوئی ٹیکس یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ اس کے باوجود انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا پانچ ہزار روپے کے لین دین پر 25 روپے اور 10 ہزار روپے کے لین دین پر 50 روپے تک ممکنہ فیس وصول کیے جانے کی خبریں درست ہیں؟
انہوں نے مرچنٹ ڈسکاو¿نٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاجر پر پڑنے والا اضافی بوجھ بالآخر اشیا کی قیمتوں اور خدمات کے نرخوں میں شامل ہو کر صارفین ہی سے وصول کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے پریشان عوام کو راحت دینے کے بجائے حکومت ان کی جیب پر اضافی بوجھ ڈالنے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد