
نئی دہلی، 15 ستمبر(ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت یو پی آئی لین دین پر فیس چارجزلگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم شدہ پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم ایکٹ 2007 کے تحت جاری کردہ ایک نئے نوٹیفکیشن کے ذریعے اس سمت میں ایک قدم اٹھایا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کانگریس نے 6 اگست کو جو خدشہ ظاہر کیا تھا اور جس کا مرکزی وزیر خزانہ نے بھی جواب دیا تھا، اب حکومت اسی سمت میں آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ نیا نوٹیفکیشن بینکوں اور سروس فراہم کرنے والوں کو صرف 2,000 سے نیچے کے یو پی آئی لین دین کے لیے فیس وصول کرنے سے منع کررہا ہے، لیکن اس رقم سے اوپر کے لین دین کے لیے کوئی واضح حفاظتی اقدامات فراہم نہیں کرتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے مستقبل میں یو پی آئی لین دین پر چارجز عائد کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بعد میں، ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے، حد کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اگر حکومت چاہے تو عام ڈیجیٹل شخص سے شخص کے لین دین پر فیس بھی عائد کر سکتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اس معاملے پر ایمانداری اور شفافیت نہیں دکھائی اور ڈیجیٹل ادائیگیاں کرنے والے لوگوں کا اعتماد توڑا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس اقدام کا مقصد امریکی کمپنیوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام کھولنا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی