دہلی کیپٹلز کرکٹ اکیڈمی نے امریکا میں تیسرا مرکز قائم کر لیا، عالمی نیٹ ورک مزید مستحکم
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ جے ایس ڈبلیو-جی ایم آر کی مشترکہ ملکیت والی دہلی کیپٹلز کرکٹ اکیڈمی نے شمالی امریکا میں اپنی موجودگی کو وسعت دیتے ہوئے امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے پلین وِل میں نیا مرکز قائم کر لیا ہے۔ یہ مرکز پریمیئر کرکٹ اکیڈمی کے اشتراک س
کیپٹلس


نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ جے ایس ڈبلیو-جی ایم آر کی مشترکہ ملکیت والی دہلی کیپٹلز کرکٹ اکیڈمی نے شمالی امریکا میں اپنی موجودگی کو وسعت دیتے ہوئے امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے پلین وِل میں نیا مرکز قائم کر لیا ہے۔ یہ مرکز پریمیئر کرکٹ اکیڈمی کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ امریکا میں یہ دہلی کیپٹلز کا تیسرا اور شمالی امریکا میں چوتھا اکیڈمی مرکز ہے۔

پلین وِل کی پریمیئر کرکٹ اکیڈمی گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے اس خطے میں نوجوانوں کے درمیان کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے۔ اکیڈمی پانچ سال اور اس سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کرتی ہے اور کنیکٹی کٹ سمیت امریکا کے شمال مشرقی علاقے میں نوجوان کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کے درمیان کرکٹ کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کر چکی ہے۔

اس شراکت داری کے تحت پلین وِل مرکز میں دہلی کیپٹلز اکیڈمی کا منظم کوچنگ نصاب، تکنیکی تربیتی نظام اور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا پروگرام نافذ کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کو جدید کوچنگ سہولیات، کارکردگی پر مبنی تربیت، کوچنگ کے تبادلے اور دہلی کیپٹلز اکیڈمی کے وسیع عالمی نیٹ ورک کے ذریعے آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔

پریمیئر کرکٹ اکیڈمی پہلے ہی نوجوان کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح کی کرکٹ تک پہنچنے کے لیے ایک مو¿ثر راستہ فراہم کر رہی ہے۔ اکیڈمی کے تین سے چار کھلاڑی ہر سال یو ایس اے کرکٹ کے ترقیاتی پروگرام کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور علاقائی و زونل مقابلوں میں اکیڈمی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اکیڈمی میں خواتین کرکٹرز کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جن میں متعدد کھلاڑی قومی اور علاقائی ٹیموں کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

یہ شراکت داری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب امریکا کے شمال مشرقی حصے میں کرکٹ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ لاس اینجلس 2028 اولمپکس کے پروگرام میں کرکٹ کی شمولیت کے بعد اس خطے میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس کھیل میں آگے بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ دہلی کیپٹلز اکیڈمی کا نیا کنیکٹی کٹ مرکز ریاست اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور کرکٹ میں مستقبل کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

دہلی کیپٹلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سنیل گپتا نے کہا، ”یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ہمارا کرکٹ پروگرام دنیا کے مزید حصوں تک پہنچ رہا ہے۔ ہم نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں اور انہیں پیشہ ورانہ کرکٹ کی بلند ترین سطح پر کھیلنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے میں مدد دینا چاہتے ہیں۔ دہلی کیپٹلز اکیڈمی کی توسیع کے ساتھ ہم زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے اس سفر کا حصہ بنانے کے منتظر ہیں۔“

اس شراکت داری کے ذریعے دیگر کھیلوں سے وابستہ نوجوانوں کو بھی کرکٹ سے جوڑنے کا موقع ملے گا۔ کنیکٹی کٹ میں بیس بال، لیکروس، فیلڈ ہاکی اور دیگر کھیلوں میں نوجوانوں کی خاصی مضبوط شرکت ہے۔ دہلی کیپٹلز اکیڈمی کا کنیکٹی کٹ پروگرام ان کھلاڑیوں کو کرکٹ سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ہاتھ اور آنکھ کے بہتر تال میل، چستی، گیند پھینکنے اور شاٹ لگانے کی صلاحیت، فٹ ورک اور فیصلہ سازی جیسی مہارتوں کو ایک نئے کھیل میں بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرے گا۔

دہلی کیپٹلز اکیڈمی کنیکٹی کٹ کے شراکت دار فانی نے کہا، ”دہلی کیپٹلز کے ساتھ شراکت داری ہماری اکیڈمی اور کنیکٹی کٹ میں کرکٹ کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ہم نے برسوں کی محنت سے ایک مضبوط مقامی بنیاد قائم کی ہے اور یہ شراکت داری ہمارے کھلاڑیوں کو ایک وسیع تر کرکٹ نیٹ ورک تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ہمارا مقصد نوجوان کرکٹرز کو ترقی، مسابقت اور اعلیٰ سطح پر مواقع حاصل کرنے کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم امریکی کھلاڑیوں کی نئی نسل کو کرکٹ سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر بے حد خوشی ہے کہ یہ شراکت داری کنیکٹ کٹ اور پورے امریکا میں کرکٹ کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھ سکتی ہے۔“

پلین وِل مرکز کے قیام کے بعد دہلی کیپٹلز کرکٹ اکیڈمی کے پانچ ممالک میں مراکز کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ ان میں بھارت میں سات اکیڈمیاں جبکہ برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور سعودی عرب میں سات بین الاقوامی اکیڈمیاں شامل ہیں۔ یہ بڑھتا ہوا نیٹ ورک مشترکہ کوچنگ تجربے، کھلاڑیوں کی ترقی کے پروگراموں اور عالمی سطح پر تجربات کے مواقع کے ذریعے مختلف ممالک کے نوجوان کرکٹرز کو ایک دوسرے سے جوڑ رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande