
ساگر زہریلی شراب سانحہ : کلیدی ملزم روی لکھیرا کا شارٹ انکانٹر، پیر میں گولی لگی
ساگر، 11 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر کے بنڈا علاقے کے زہریلی شراب سانحے میں مفرور کلیدی ملزم روی لکھیرا کو ساگر پولیس نے جمعہ کی علی الصبح مقابلے کے بعد گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق، برائٹھا کے جنگل میں ہنومان ٹونگ مندر کے قریب گھیرا بندی کے دوران ملزم نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی۔ جوابی کارروائی میں اس کے پیر میں گولی لگی۔ زخمی ملزم کو پہلے بنڈا اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے ساگر کے بندیل کھنڈ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ اس کی گرفتاری پر پولیس نے 20 ہزار روپے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں زہریلی شراب تیار کرنے اور اس کی سپلائی سے وابستہ نیٹ ورک کے دیگر افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق، جمعرات کی رات اطلاع ملی تھی کہ روی لکھیرا (45 سال)، ولد سریش لکھیرا برائٹھا علاقے کے جنگل میں چھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد پولیس ٹیم نے ہنومان ٹونگ مندر کے اطراف گھیرا بندی کی۔ پولیس کو دیکھ کر ملزم نے مبینہ طور پر فائرنگ کی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں اس کے پیر میں گولی لگی اور اسے پکڑ لیا گیا۔ پولیس کے سینئر افسران بھی موقع پر پہنچے۔ بنڈا علاقے میں زہریلی شراب پینے سے اموات کی تعداد میں مسلسل اضافے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جمعرات کو بندیل کھنڈ میڈیکل کالج میں زیر علاج مزید تین مریضوں کے دم توڑنے کے بعد اموات کی کل تعداد 31 بتائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے اب تک 16 اموات کی ہی تصدیق کی گئی ہے۔ اموات کے اصل اعداد و شمار کے حوالے سے انتظامیہ اور دیگر فریقین کے دعووں میں تضاد برقرار ہے۔
پولیس کے مطابق، اس معاملے میں اب تک 33 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں روی لکھیرا سمیت 18 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے۔ ایک ملزم ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔ پولیس کے مطابق 13 ملزمان اب بھی مفرور ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق، تقریباً 45 سالہ روی لکھیرا بنیادی طور پر ضلع چھترپور کا رہنے والا ہے اور فی الحال اتر پردیش کے للت پور میں رہتا ہے۔ پولیس اسے بین ریاستی غیر قانونی شراب کے نیٹ ورک سے جڑا ملزم قرار دیتی ہے۔ اس کے خلاف مدھیہ پردیش اور اتر پردیش سمیت دیگر مقامات پر تقریباً 25 مجرمانہ مقدمات درج ہونے کی جانکاری پولیس نے دی ہے۔ ان میں سے متعدد کیسز ایکسائز ایکٹ سے متعلق بتائے گئے ہیں۔
روی سال 2025 میں ساگر کے بہیریا تھانہ علاقے میں درج ایکسائز ایکٹ کے معاملے میں بھی مفرور چل رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، مئی 2026 میں للت پور میں پکڑی گئی مبینہ جعلی شراب فیکٹری کے معاملے میں بھی اس کا نام سامنے آیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن