مودی-پوتن مذاکرات میں مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے تنازعات سمیت متعدد امور پر بات چیت
مودی-پوتن مذاکرات میں مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے تنازعات سمیت متعدد امور پر بات چیت نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس سربراہی کانفرنس سے ایک روز قبل جمعہ کو یہاں بھارت منڈپم میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اور ہندو
وزیر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن جمعہ کے روز ملاقات کے دوران


مودی-پوتن مذاکرات میں مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے تنازعات سمیت متعدد امور پر بات چیت

نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس سربراہی کانفرنس سے ایک روز قبل جمعہ کو یہاں بھارت منڈپم میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اور ہندوستان-روس خصوصی و بااختیار اسٹریٹجک شراکت داری کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماوں نے تجارت، توانائی، دفاع، خلائی تحقیق اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی رابطوں سمیت تعاون کے اہم شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ بات چیت میں مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے خطے کے تنازعات سمیت علاقائی و عالمی امور بھی نمایاں طور پر زیر بحث آئے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پوسٹ میں بتایا کہ وزیر اعظم مودی اور صدر پوتن نے ہندوستان-روس اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلووں پر جامع گفتگو کی۔ دونوں رہنماوں نے دو طرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان شعبوں پر غور و خوض کیا جو دونوں ممالک کے طویل مدتی تعلقات کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

میٹنگ میں تجارت، توانائی، دفاع اور خلائی تعاون کے ساتھ ساتھ عوامی رابطوں کو بھی اہم شعبے کے طور پر نمایاں کیا گیا۔ دونوں فریقین نے ان شعبوں میں جاری تعاون کو مزید وسعت دینے کی تدابیر پر غور کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق، مودی اور پوتن نے علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ مفادات سے وابستہ معاملات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ ان میں مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے خطے میں جاری تنازعات شامل ہیں۔

مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان امن کے قیام کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم اور روسی صدر کی یہ ملاقات ہندوستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔ ہندوستان رواں سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور کانفرنس کے ذریعے لچک پذیری، اختراع پسندی، باہمی اشتراک اور پائیدار ترقی پر زور دے رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande