
کراچی (پاکستان)، 11 ستمبر (ہ س)۔ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساکی اور ان کے بھتیجے پر مبینہ حملے اور انہیں یرغمال بنانے کے معاملے میں پولیس نے مرکزی مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے گرفتار شخص کی شناخت سید محمد کونین شاہ کے طور پر کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق شاہ کو ضمانت ملنے کے باوجود گرفتار کیا گیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ وہ شہر سے فرار ہوسکتا ہے۔
’دی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق سید محمد کونین شاہ کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین نے اسے گرفتار کرنے میں ناکامی پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ شاہ نے جمعرات کو ملیر کی ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کی تھی۔ عدالت نے اسے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت دی تھی۔یہ معاملہ صفورا چورنگی کے قریب پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے، جس میں ڈاکٹر ساکی پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ایک ڈبل کیبن گاڑی اور آن لائن ٹیکسی کے درمیان تصادم کے بعد پیش آیا۔ واقعے کے دوران پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو مبینہ طور پر یرغمال بھی بنایا گیا تھا۔ اب پولیس تفتیش کے دوران شاہ سے پوچھ گچھ کرے گی اور واقعے میں اس کے مبینہ کردار کا تعین کرنے کی کوشش کرے گی۔
پولیس نے بتایا کہ ڈاکٹر ساکی جس گاڑی میں سوار تھے، اسے ان کے بھتیجے وحید الرحمن چلا رہے تھے۔ ڈاکٹر ساکی کے مطابق ڈبل کیبن گاڑی پارکنگ ایریا سے باہر آرہی تھی، اسی دوران اس کے گارڈ نے ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ اس کے بعد ڈبل کیبن گاڑی پیچھے کی جانب آئی اور ٹیکسی سے ٹکرا گئی۔ پروفیسر نے بتایا کہ انہوں نے ڈبل کیبن گاڑی میں سوار افراد سے کہا کہ تصادم سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے ٹیکسی ڈرائیور کو معاوضہ دیا جائے۔
ڈاکٹر ساکی نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد ہوٹل کے مالک کا بیٹا گاڑی سے باہر نکلا، دو گولیاں چلائیں اور پھر ہوا میں فائرنگ کرنے سے پہلے پستول کے بٹ سے ان پر حملہ کیا۔ ان کے مطابق انہیں اور ان کے بھتیجے کو ہوٹل لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے ڈاکٹر ساکی کی شکایت پر کونین اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔پولیس نے واقعے کے سلسلے میں ایک مقامی ہوٹل کے تین ملازمین کو بھی حراست میں لیا ہے اور حملے میں ملوث دیگر افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔
واقعے کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے پروفیسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور انہیں غیر قانونی طور پر یرغمال بنائے جانے کے معاملے میں ایس ایس پی (ایسٹ)سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ لنجار نے کہا کہ ہر حال میں اساتذہ کی عزت، وقار اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا بھی یقین دلایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan