اے ایم یو میں خودکشی سے بچاؤ کے لیے بیداری مارچ، وی سی نے کہا—طلبہ کو ڈانٹ نہیں، ہمدردی کی ضرورت
علی گڑھ, 10 ستمبر (ہ س)۔ عالمی یومِ انسدادِ خودکشی کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ نفسیات نے اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سنٹر کے اشتراک سے خودکشی کی روک تھام اور ذہنی صحت کے حوالے سے بیداری مارچ کا انعقاد کیا۔ بابِ سید گیٹ تک نکالے گئے اس مارچ می
مارچ


علی گڑھ, 10 ستمبر (ہ س)۔

عالمی یومِ انسدادِ خودکشی کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ نفسیات نے اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سنٹر کے اشتراک سے خودکشی کی روک تھام اور ذہنی صحت کے حوالے سے بیداری مارچ کا انعقاد کیا۔ بابِ سید گیٹ تک نکالے گئے اس مارچ میں اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان اور ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ، طلبہ و طالبات اور کاؤنسلرز نے شرکت کی۔

مارچ سے قبل شعبۂ نفسیات اور اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سنٹر کی جانب سے پلے کارڈ بنانے کی نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں طلبہ نے ذہنی صحت اور خودکشی سے بچاؤ کے حوالے سے مختلف پیغامات تحریر کیے۔ پلے کارڈز پر ’’آپ تنہا نہیں ہیں‘‘ اور ’’مدد مانگنا بالکل ٹھیک ہے‘‘ جیسے پیغامات درج تھے۔ مارچ کے دوران طلبہ نے ’’امید کی آواز بلند کریں‘‘، ’’آپ اہم ہیں، آپ کی زندگی اہم ہے‘‘ اور خودکشی کی روک تھام سے متعلق دیگر نعرے لگاتے ہوئے ذہنی صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کی۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ذہنی و جذباتی صحت کے لیے صحت مند اور متوازن طرزِ زندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکشی کسی ایک لمحے میں لیا گیا فیصلہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے طویل عرصے سے جاری ذہنی اور جذباتی پریشانیاں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر معاملے کے پیچھے صرف تعلیمی دباؤ ہی وجہ نہیں ہوتا بلکہ خاندانی مسائل، رشتوں میں کشیدگی اور ذاتی زندگی کی پریشانیاں بھی نوجوانوں کی ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

وائس چانسلر نے والدین کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بچوں کی جذباتی ضروریات کے تئیں حساس رہنا چاہیے اور گھر میں ایسا معاون ماحول قائم کرنا چاہیے جہاں نوجوان بغیر خوف کے اپنے مسائل بیان کرسکیں اور ضرورت پڑنے پر مدد طلب کرسکیں۔ انہوں نے طلبہ کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ ہم عمر ساتھی ایک دوسرے کے تجربات اور مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اس لیے وہ مشکل وقت میں سماجی اور جذباتی تعاون فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی بھی طالب علم کی پریشانی کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے توجہ سے سننے اور اپنائیت و ہمدردی کے ساتھ پیش آنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر نعیمہ خاتون نے بتایا کہ اے ایم یو میں ہال کی سطح پر کاؤنسلنگ کا نظام شروع کیا گیا ہے۔ کلینیکل سائیکالوجی اور سائیکاٹری کی ٹیمیں ہاسٹلز میں جاکر طلبہ سے بات چیت کر رہی ہیں اور ضرورت مند طلبہ کی نشاندہی کرکے انہیں ضروری مدد اور رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی ذہنی اور جذباتی بہبود کے لیے کاؤنسلنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔

اس سے قبل شعبۂ نفسیات کے صدر پروفیسر شاہ عالم نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے خودکشی سے بچاؤ کے حوالے سے بیداری کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جذباتی پریشانی کی ابتدائی علامات کو پہچاننا، ذہنی صحت کے بارے میں کھلی گفتگو کو فروغ دینا اور مشکلات سے دوچار افراد کو بروقت مدد فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سنٹر کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نشید امتیاز نے ڈاکٹر حنا پروین اور ڈاکٹر عائشہ رحمن کے ساتھ مل کر بیداری مارچ کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ مارچ میں پروفیسر رومانہ صدیقی، ڈاکٹر ریشما جمال، ڈاکٹر سلمیٰ کنیز، ڈاکٹر مہوش فاطمہ، ڈاکٹر آصف حسن، ڈاکٹر عائشہ خان اور ڈاکٹر ماریہ مدیحہ نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز کی پروفیسر عذرا موسوی اور ڈاکٹر جوہی گپتا، رابطہ عامہ افسر مسٹر عمر سلیم پیرزادہ، دیگر شعبوں کے سینئر اساتذہ اور اے ایم یو کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات بھی مارچ میں شریک ہوئے۔

مارچ میں شامل طلبہ و طالبات نے کہا کہ ذہنی پریشانیوں کو چھپانے کے بجائے ان کے بارے میں بات کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی طالب علم کسی ذہنی یا جذباتی پریشانی سے گزر رہا ہو تو اس سے بات کی جائے، اس کی بات سنی جائے اور اسے یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ وہ اپنی مشکلات میں اکیلا ہے۔ طلبہ کے مطابق ایک دوسرے سے رابطہ اور بات چیت بڑھانے، بروقت مسائل کو سمجھنے اور ضرورت کے وقت مدد فراہم کرنے سے خودکشی جیسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں اے ایم یو میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد کیمپس میں طلبہ کی ذہنی صحت، کاؤنسلنگ اور معاونتی نظام کو لے کر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں عالمی یومِ انسدادِ خودکشی کے موقع پر منعقد کیا گیا یہ بیداری مارچ محض ایک علامتی سرگرمی کے بجائے طلبہ کی ذہنی و جذباتی مشکلات کو سمجھنے، ان پر بات کرنے اور بروقت مدد فراہم کرنے کی ضرورت کی جانب بھی توجہ مبذول کراتا ہے۔

اے ایم یو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کو درپیش ذہنی اور جذباتی مسائل کو سمجھنے کے لیے کاؤنسلنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی طالب علم کو مشکل وقت میں بروقت مدد، رہنمائی اور جذباتی تعاون فراہم کیا جاسکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande