
صنعاء (یمن)، 9 اگست (ہ س)۔
حوثی (انصار اللہ) نے سعودی عرب کے جیزان صوبے میں سعودی آرامکو کی ریفائنری پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ حملہ یمن کے صعدہ اور حجہ صوبوں پر سعودی ڈرون حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
اس سلسلے میں لبنان کے دارالحکومت بیروت سے چلنے والے حوثیوں کے مکمل ملکیتی اور زیرِ کنٹرول المسیرہ ٹی وی نے آج ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یمن میں سرگرم حوثی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
سعودی آرامکو سعودی عرب کی سرکاری پٹرولیم اور قدرتی گیس کمپنی ہے۔ اس کا مکمل نام سعودی عربین آئل کمپنی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ منافع کمانے والی توانائی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا صدر دفتر سعودی عرب کے ظہران میں ہے۔
المسیرہ ٹی وی پر نشر کیے گئے حوثیوں کے بیان میں کہا گیا کہ باغیوں نے اس تنصیب کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اہم بات یہ ہے کہ حوثی یمن کی ایک شدت پسند سیاسی اور فوجی تنظیم ہے۔ یہ بنیادی طور پر یمن کے شمالی حصے میں آباد زیدی شیعہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسے ایران کی براہِ راست حمایت حاصل ہے۔ امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں اس معاملے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے قبل سعودی وزارتِ توانائی نے صرف اتنا کہا تھا کہ فائر فائٹرز نے بحیرہ احمر کے جیزان بندرگاہ میں سعودی آرامکو کی ریفائنری کی ایک تنصیب میں صبح لگنے والی آگ پر قابو پالیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے سلامتی کونسل کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے حوثیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی اپنی اپیل بھی دہرائی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ باغیوں نے سعودی آرامکو ریفائنری پر ایک درست حملہ کرکے یمن کے صعدہ اور حجہ صوبوں کی فضائی حدود میں دراندازی کا جواب دیا ہے۔
سریع نے یہ دعویٰ سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کے ایک بیان کے چند گھنٹے بعد کیا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ جیزان میں سعودی آرامکو ریفائنری کی ایک تنصیب میں صبح آگ لگ گئی تھی، جس پر بعد میں قابو پالیا گیا۔
سعودی وزارتِ توانائی کی جانب سے حملے کی اطلاع دیے جانے کے فوراً بعد اسرائیل کے چینل 14 نے اپنی خبر میں اس حملے کے پیچھے حوثی باغیوں کا ہاتھ بتایا۔ بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کا یہ حملہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے جمعہ کو ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے“ پر دستخط کرنے کے بعد ہوا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پیداوار اور ذخائر کے لحاظ سے سعودی آرامکو دنیا کی سرفہرست کمپنی ہے۔ اس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا خام تیل کا ذخیرہ اور پیداواری نظام موجود ہے۔ اس کی ابتدا 1933 میں امریکی کمپنیوں کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ہوئی تھی۔
اس وقت سعودی آرامکو کی مارکیٹ ویلیو بھارتی کرنسی کے حساب سے تقریباً 162 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ