
ریاض، 9 اگست(ہ س)۔ ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک مختصر ویڈیو جاری کی ہے، جسے جنگ کے آغاز کے بعد ان کی پہلی ویڈیو قرار دیا جا رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے منظرِ عام سے غائب رہنے نے ان کی صحت اور موجودہ مقام کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز نے اس ویڈیو کو نئی ریکارڈنگ قرار دیا ہے۔ تقریباً 13 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای کو بیٹھے ہوئے اور چند طلبہ کے درمیان دکھایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ منظر دینی علوم کی تدریس سے متعلق ایک نشست کا ہے، تاہم ویڈیو کب اور کہاں ریکارڈ کی گئی، اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں ان کی ٹانگ پر چوٹ آئی تھی اور چہرے پر بھی معمولی زخم آئے تھے۔ تاہم تازہ ویڈیو میں ان کے جسم پر کسی نمایاں چوٹ کے آثار نظر نہیں آتے۔
ایران کی ماہرین کی رہبری کونسل کے رکن احمد خاتمی نے تقریباً دو ماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ جنگ کے پہلے ہی دن مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ زخمی ہوئی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے بتایا تھا کہ چوٹ کی شدت کے باعث ابتدا میں ان کی ٹانگ کاٹنے تک کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
چند سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ایسا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں جس سے یہ تصدیق ہو سکے کہ اسے حال ہی میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مہر نیوز نے اسے نئی ویڈیو کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن ریکارڈنگ کی تاریخ، مقام اور حالات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔اسی وجہ سے ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور عوامی سرگرمیوں سے متعلق سوالات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔
ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے اس سے قبل ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عرصے تک عدم موجودگی کی ایک وجہ ان کی چوٹ اور سکیورٹی خدشات ہو سکتے ہیں۔ ان کی مسلسل غیر موجودگی کو ایرانی حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج قرار دیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan