جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف گر دھاری مہتو کا اکیلے پیدل مارچ
کھونٹی، 9 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی)، جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) سمیت ریاست میں ہونے والے دیگر مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے خلاف موروہ بلاک کے ماہل گاؤں کے رہنے والے گر دھاری مہتو
جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف گر دھاری مہتو کا اکیلے پیدل مارچ


کھونٹی، 9 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی)، جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) سمیت ریاست میں ہونے والے دیگر مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے خلاف موروہ بلاک کے ماہل گاؤں کے رہنے والے گر دھاری مہتو نے اتوار کو کھونٹی سے رانچی تک پیدل مارچ شروع کر دیا۔

گر دھاری مہتو نے نوجوانوں سے اس احتجاجی مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی، تاہم اتوار کو دوپہر 12 بجے تک ان کے ساتھ کوئی دوسرا شخص شامل نہیں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اکیلے ہی پیدل مارچ شروع کر دیا۔

مارچ شروع کرنے سے قبل گر دھاری مہتو نے کھونٹی کے برسا پارک میں بھگوان برسا منڈا کے مجسمے پر گل پیش کی۔ اس کے بعد انہوں نے 24 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کا عہد کیا اور ہاتھ میں آئین کی کتاب اور ترنگا لے کر رانچی کے جے پال سنگھ اسٹیڈیم کے لیے روانہ ہوگئے۔ ان کا مقصد پیدل سفر مکمل کرکے جے پال سنگھ اسٹیڈیم پہنچنا ہے۔

گر دھاری مہتو نے کہا کہ ان کی تحریک کا تعلق کسی سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم یا کسی مخصوص گروپ سے نہیں ہے۔ یہ جھارکھنڈ کے نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے حقوق سے متعلق مہم ہے۔ انہوں نے جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی اور دیگر مسابقتی امتحانات میں شفافیت یقینی بنانے کے مطالبے کے ساتھ یہ پیدل مارچ شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے لاکھوں نوجوان برسوں تک محنت اور تیاری کرنے کے بعد مسابقتی امتحانات میں شرکت کرتے ہیں۔ ایسے میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہونا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ اسی مسئلے کو اٹھاتے ہوئے انہوں نے کھونٹی سے رانچی تک پیدل مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

گر دھاری مہتو نے کہا،’’لوگ ساتھ آئیں یا نہ آئیں، میرا عزم کمزور نہیں ہوگا۔ نیک نیت سے شروع کی گئی یہ تحریک کامیابی حاصل ہونے تک جاری رہے گی۔‘‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande