
واشنگٹن،09 اگست(ہ س)۔ ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیب ’’جبلِ بیگ آکس‘‘ ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے مرکز میں آ گئی ہے۔ امریکی حکام اور ماہرین کے مطابق یہ تنصیب پہاڑ کے اندر گہرائی میں واقع ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ بحالی کو روکنے کے لیے اسے اہم ہدف سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی جوہری پروگرام کی ماہر اور فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے عدمِ پھیلاؤ پروگرام کی ڈائریکٹر اینڈریا اسٹرائیکر نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکہ کے لیے اس تنصیب کے سرنگ نما داخلی راستوں اور دیگر حساس حصوں کو نشانہ بنانا ممکنہ آپشنز میں شامل ہو سکتا ہے۔اسٹرائیکر کے مطابق جبلِ بیگ آکس کے علاقے میں سرنگوں کے دو بڑے مجموعے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ مٹی اور چٹانوں سے مضبوطی سے محفوظ کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے حصے کے داخلی راستے اب بھی کھلے دکھائی دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نگرانی سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں ٹرکوں اور تعمیراتی مشینری کی اس مقام پر آمدورفت دیکھی جا سکتی ہے، جس سے تنصیب میں سرگرمیوں کے جاری رہنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور امریکی فوجی کارروائی کے ایک نئے مرحلے کے امکانات پر بھی بات ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن واقعی اس تنصیب کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرے گا یا نہیں۔
دوسری جانب ایران سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک جزوی طور پر جہاز رانی کی اجازت دینے سے متعلق انتظامات کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کئی مرتبہ جبلِ بیگ آکس کو ممکنہ امریکی فوجی ہدف قرار دے چکے ہیں۔ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ اس تنصیب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس مقام کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکا ہے، تاہم اگر تہران کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا تو جبلِ بیگ آکس کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جبلِ بیگ آکس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا پہاڑ کے اندر گہرائی میں واقع ہونا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق تنصیب کے اہم حصے زمین کی سطح سے سینکڑوں فٹ نیچے موجود ہیں اور انہیں موٹی گرینائٹ چٹانیں تحفظ فراہم کرتی ہیں۔اینڈریا اسٹرائیکر کے مطابق ایسی تنصیب پر براہِ راست فضائی حملہ انتہائی مشکل ہوگا۔ بنکر شکن بم استعمال کرنے کے باوجود گہرائی میں موجود حصوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا ایک بڑا فوجی چیلنج ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق ممکنہ فضائی کارروائی میں سرنگوں کے داخلی راستوں یا وینٹی لیشن شافٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم ایسے حملوں سے پوری زیرِ زمین تنصیب کی تباہی یقینی نہیں ہوگی، البتہ ایران کے لیے اس مقام تک رسائی اور اسے دوبارہ استعمال کرنا مشکل بنایا جا سکتا ہے۔
ماہر نے یہ بھی کہا کہ زمینی کارروائی ایک انتہائی خطرناک آپشن ہوگی، تاہم اس کے ذریعے تنصیب کے اندر گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر یہ واضح طور پر نہیں بتایا جا سکتا کہ جبلِ بیگ آکس میں جوہری سرگرمیاں کب باقاعدہ طور پر شروع ہوں گی۔یہ بھی ابھی واضح نہیں کہ ایران وہاں سینٹری فیوجز کی تیاری یا اسمبلنگ کے لیے بڑی تنصیب قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچنے کے دعوے کیے گئے ہیں، جن میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے لیے ضروری پرزہ جات بنانے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران مستقبل میں سینٹری فیوجز کی تیاری کی صلاحیت دوبارہ بحال کرتا ہے تو جبلِ بیگ آکس کے اندر محدود پیمانے پر ایک نئی تنصیب قائم کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
اینڈریا اسٹرائیکر کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں نے ایران کے ممکنہ جوہری ’’بریک آؤٹ ٹائم‘‘ کو تقریباً ڈھائی سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔تاہم ایران کی جوہری سرگرمیوں، جبلِ بیگ آکس میں موجود تنصیبات اور مستقبل میں اس کے استعمال کے حوالے سے اب بھی متعدد سوالات موجود ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مقام واشنگٹن، تہران اور عالمی جوہری نگرانی کے اداروں کی توجہ کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan