امریکہ ۔ ایران کشیدگی کے درمیان مفاہمت کی کوششیں بھی تیز ، عمان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی امید
تہران/واشنگٹن، 9 اگست (ہ س)۔ ایران اس سال فروری سے امریکہ کے ساتھ آبنائے ہرمز پر جاری جنگ کے درمیان مصالحت کا راستہ نکالنے کی کوشش میں ہے۔ اس سلسلے میں ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں کسی حل کی امید ہے۔ دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب
علامتی تصویر


تہران/واشنگٹن، 9 اگست (ہ س)۔ ایران اس سال فروری سے امریکہ کے ساتھ آبنائے ہرمز پر جاری جنگ کے درمیان مصالحت کا راستہ نکالنے کی کوشش میں ہے۔ اس سلسلے میں ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں کسی حل کی امید ہے۔ دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے آبی گزرگاہ کھولنے کے لیے اپنی سابقہ شرط دہرائی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ہر حال میں ایران پر دباو برقرار رکھے گا۔

الجزیرہ، فاکس نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امید ظاہر کی ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات سے آبنائے ہرمز کے معاملے میں کوئی نتیجہ نکلے گا۔ انہوں نے مذاکرات کے دوران نہ جنگ نہ امن کی صورتحال سے آگے بڑھنے کی اپیل کی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کھولی جا سکتی ہے، بشرطیکہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کھلے عام الزام عائد کیا ہے کہ ایران تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ واشنگٹن اس پر دباو برقرار رکھے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو صحافیوں سے کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں عارضی راستہ بنانے پر اتفاق تقریباً طے ہو گیا ہے۔ تاہم آبنائے کو دوبارہ کھولنے سے پہلے ایران کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے لیے امریکہ کو معاوضہ دینا ہوگا۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل نے اس سلسلے میں کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔ ان میں امریکہ کی جانب سے ایران کو دھمکانا بند کرنا، ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائی روکنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، جنگ میں ہونے والے نقصانات کے لیے ایران کو معاوضہ دینا، پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا شامل ہیں۔

ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران عمان نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر مسلسل ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ عمان نے اس کے لیے کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے۔ امریکی نائب صدر وینس نے کہا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کر دیا ہے۔ ہم نے اس کی روایتی فوج کو ختم کر دیا ہے۔ ہم نے اس کی غیر روایتی فوجی صلاحیتوں کو بھی بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔ اگر ایران اب بھی معاہدہ قبول نہیں کرتا تو یہ اس کی مرضی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کی ناکہ بندی کے باعث 53 جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس دوران انسانی امداد لے جانے والے 30 سے زیادہ جہازوں کو بحفاظت گزرنے کی اجازت دی گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande