
واشنگٹن، 9 اگست(ہ س)۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہانٹر بائیڈن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد کا پروسٹیٹ کینسر مزید پھیل گیا ہے اور وہ شدید تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ ہانٹر بائیڈن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ کینسر ہڈیوں تک پہنچنے کے بعد جسم کے دیگر حصوں میں بھی پھیل چکا ہے۔
ہانٹر بائیڈن کے مطابق ان کے والد کو بیماری کے باعث شدید درد کا سامنا ہے اور انہیں اس حالت میں دیکھنا خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن کی صحت اچھی نہیں ہے، تاہم وہ اب بھی عوامی زندگی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان معاملات پر بات کرتے ہیں جو ان کے لیے اہم ہیں۔
جو بائیڈن نے مئی 2025 میں اعلان کیا تھا کہ انہیں جارحانہ نوعیت کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جو اس وقت تک ہڈیوں تک پھیل چکا تھا۔ طبی اعتبار سے دوسرے حصوں تک پھیل جانے والے کینسر کو میٹاسٹیٹک یا اسٹیج فور کینسر کہا جاتا ہے۔
تازہ بیان میں ہانٹر بائیڈن نے بیماری کے مزید پھیلاؤ کی اطلاع دی ہے، جس سے سابق صدر کی صحت کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
ہانٹر بائیڈن نے کہا کہ بیماری کی سنگینی کے باوجود ان کے والد اب بھی اپنی ذمہ داریوں اور عوامی معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، جو بائیڈن کو امریکہ پر گہرا یقین ہے اور وہ اب بھی ان امور پر اپنی رائے دیتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں۔
جو بائیڈن 2021 سے 2025 تک امریکہ کے صدر رہے اور امریکی تاریخ میں صدر کا منصب سنبھالنے والے معمر ترین شخص تھے۔ ان کی عمر اور صحت 2024 کی صدارتی مہم کے دوران بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع رہی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صدارتی مباحثے کے بعد بائیڈن نے دوبارہ انتخاب کی دوڑ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
جو بائیڈن کی صحت اور ان کی صدارت کے آخری دور میں طبی معلومات کی شفافیت پر پہلے بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ کینسر کی تشخیص سامنے آنے کے بعد بھی اس حوالے سے سیاسی بحث جاری رہی، تاہم بائیڈن کے قریبی معاونین نے ان کے عہدہ صدارت کے دوران فیصلہ سازی کی صلاحیت کے بارے میں اٹھائے گئے خدشات کو مسترد کیا تھا۔
ہانٹر بائیڈن نے اپنے والد کی صحت کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کے لیے یہ سب دیکھنا انتہائی مشکل ہے، لیکن وہ اس مشکل وقت میں بھی اپنے والد کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر الگ نہیں دیکھ رہے۔تازہ بیان کے بعد سابق امریکی صدر کی صحت ایک بار پھر عالمی میڈیا اور امریکی سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan