
واشنگٹن، 8 اگست (ہ س)۔ روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر امریکہ نے دباو بڑھانے کی تیاری تیز کر دی ہے۔ امریکی سینیٹ نے ’’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘‘ کو 11-86 کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت روس سے توانائی کی خریداری جاری رکھنے والے ہندوستان، چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ ٹیرف ابھی نافذ نہیں ہوا ہے اور بل کو قانون بننے کے لیے مزید مراحل سے گزرنا ہوگا۔
برطانوی روزنامہ ’’دی گارجین‘‘ اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہندوستان اس قانون کے ممکنہ اثرات کی زد میں آنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، کیونکہ 2022 کے بعد سے ہندوستان روسی خام تیل کا بڑا خریدار بنا ہوا ہے۔ تاہم، سینیٹ سے بل منظور ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان پر 100 فیصد ٹیرف فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ بل کو ابھی امریکی ایوان نمائندگان سے منظوری اور اس کے بعد صدر کے دستخط کی ضرورت ہوگی۔
یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے روسی توانائی پر پابندیاں عائد کیے جانے کے درمیان ہندوستان نے روس سے سستا خام تیل خریدنا بڑھا دیا۔ اس سے ہندوستانی ریفائنریوں کو نسبتاً کم قیمت پر خام تیل ملا اور ملک کی توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
لیکن اسی وجہ سے ہندوستان اب امریکی پابندیوں کے ممکنہ دائرے میں آ سکتا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اگر صدر اس کا استعمال کرتے ہیں تو روس سے توانائی خریدنے والے بڑے ممالک سے امریکہ آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی محصول عائد کیا جا سکتا ہے۔
اس کا براہ راست اثر ہندوستانی برآمد کنندگان پر پڑ سکتا ہے۔ امریکی بازار میں ہندوستانی مصنوعات مہنگی ہونے سے ان کی مسابقتی حیثیت کمزور ہو سکتی ہے اور ہندوستان-امریکہ تجارتی تعلقات پر بھی دباو بڑھ سکتا ہے۔
اس بل کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان پر ابھی کوئی نیا 100 فیصد ٹیرف نافذ نہیں ہوا ہے۔ قانون بننے کے لیے بل کو پہلے ایوان نمائندگان سے منظور ہونا ہوگا۔ اس کے بعد صدر کے دستخط سے یہ قانون بنے گا۔ قانون بننے کے بعد بھی ٹیرف عائد کرنا خودکار طور پر لازمی نہیں ہوگا، بلکہ امریکی صدر کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا کہ اس پروویزن کا استعمال کب اور کن ممالک کے خلاف کیا جائے۔
بل صرف روس سے تیل خریدنے والے ممالک کو نشانہ نہیں بناتا۔ اس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن، اعلیٰ فوجی افسران، کاروباری گروپوں، مالیاتی اداروں اور توانائی کے شعبے پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا پرویزن بھی ہے۔
روسی تیل کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے خلاف کارروائی کو بھی مجوزہ پابندیوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، روس کی برآمدات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے سے متعلق پرویزن بھی بل میں شامل ہیں۔ بل میں ایران سے متعلق پابندیوں کو مزید مضبوط کرنے کے پروویزن بھی ہیں۔ اس کا مقصد ایران کے توانائی اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں پر امریکی اقتصادی دباو برقرار رکھنا ہے۔
بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کی وسیع حمایت حاصل ہوئی۔ یہ 11-86 کی بھاری اکثریت سے منظور ہوا۔ تاہم، کچھ ارکان نے صدر کو وسیع ٹیرف اختیارات دیے جانے پر اعتراض کیا۔
رینڈ پال اور ڈیموکریٹک سینیٹر رون وائیڈن سمیت ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کو اتنے وسیع اختیارات دینے سے ٹیرف کا استعمال روس پر دباو ڈالنے کے بجائے دیگر تجارتی تنازعات میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ ٹیرف سے متعلق اختیارات محدود کرنے والی ایک ترمیم بھی سینیٹ میں 64-32 ووٹوں سے مسترد ہو گئی۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی پر دباو ڈالنا یوکرین جنگ کے خلاف اقتصادی حکمت عملی کا موثر حصہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کے بڑے توانائی خریداروں کو متبادل کا انتخاب کرنے پر مجبور کرکے ماسکو کی جنگی صلاحیت پر دباو بڑھایا جا سکتا ہے۔
سینیٹ کی منظوری کے بعد بل اب امریکی ایوان نمائندگان میں جائے گا۔ ایوان سے منظوری ملنے اور صدر کے دستخط کے بعد ہی یہ قانون بن سکے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر بل قانون بن جاتا ہے اور امریکی صدر اس میں دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں تو ہندوستان-امریکہ تجارت، ہندوستانی برآمدات اور روس سے ہندوستان کی توانائی خرید پالیسی پر اس کا بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی سینیٹ نے ہندوستان پر 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں کیا ہے۔ اس نے ایسے قانون بنانے کی سمت میں قدم بڑھایا ہے، جو صدر کو روس سے توانائی خریدنے والے بڑے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن