پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے،کسی پر حملہ ہونے پر تینوں مل کر جواب دیں گے
ریاض، 7 اگست (ہ س)۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ کو مکہ میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے“ پر دستخط کئے۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور جواب دینے کی اج
Saudi-Arabia-Trkiye-Pakistan-Mecca-Defense-Pact


ریاض، 7 اگست (ہ س)۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ کو مکہ میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے“ پر دستخط کئے۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور جواب دینے کی اجتماعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ جمعہ کو مکہ مکرمہ میں ہونے والی مکہ المکرمہ سربراہی کانفرنس کے دوران طے پایا۔ یہ سربراہی اجلاس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر منعقد ہوا اور اس میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ کے الصفا محل میں دونوں رہنماو¿ں کا استقبال کیا۔

ملاقات کے دوران تینوں ممالک کے رہنماو¿ں نے سہ فریقی تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد تاریخی تعلقات، اسلامی یکجہتی اور باہمی تعاون پر مبنی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔

معاہدے کے مطابق تینوں ممالک اجتماعی سلامتی کو مضبوط کریں گے اور علاقائی اور عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ،تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور تینوں اس کے مطابق جواب دیں گے۔

اس معاہدے میں دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو وسعت دینے،حملے کی صورت میں جوابی حملہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سکیورٹی فریم ورک تیار کرنے کی بھیتجویز کی گئی ہے۔ تینوں ممالک نے اس معاہدے کو علاقائی استحکام اور مشترکہ سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے مغربی ایشیا میں تقریباً تین سال سے کشیدگی اور تشدد جاری ہے۔ خطے کے تقریباً ہر ملک کو سرحد پار سے حملوں یا میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں جنگ چھیڑ رکھی ہے، جنوبی لبنان میں دراندازی کی ہے اور شام کے علاقے پر قبضہ کیا ہے، ساتھ ہی ایران کے خلاف دو فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، اردن اور اسرائیل میں امریکی اڈوں اور سویلین انفراسٹرکچر پر حملے کیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ سہ فریقی فوجی تعلقات پر استوار ہے۔ پاکستان اور ترکیہ مضبوط دفاعی صنعتیں لاتے ہیں جبکہ سعودی عرب تکنیکی فنڈنگ کے ذریعے اپنا تعاون دے سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ معاہدے میں جوہری پہلو شامل ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس صلاحیتیں بنیادی طور پر بھارت سے خطرے پر مرکوز ہیں۔

پاکستان نے کئی دہائیوں سے سعودی فوج کو تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کی ہے جبکہ ترکیہ اور پاکستان نے جنگی جہازوں اور تربیتی طیاروں کا تبادلہ کیا ہے۔ 2023 میں، سعودی عرب نے ترکیہ کے ڈرون خریدنے پر رضامندی ظاہر کی، جس میں اس کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ بتایا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande