پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں کرفیو نافذ، خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم
اسلام آباد، 7 اگست (ہ س)۔ سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں 6 اگست کی شام 6 بجے سے اچانک کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ یہ 8 اگست کی صبح 8 بجے تک نافذالعمل رہے گا۔ کرفیو کا اعلان ہوتے ہی لوگوں نے دکانوں ا
Pak-Surab-District-Curfew


اسلام آباد، 7 اگست (ہ س)۔ سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں 6 اگست کی شام 6 بجے سے اچانک کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ یہ 8 اگست کی صبح 8 بجے تک نافذالعمل رہے گا۔ کرفیو کا اعلان ہوتے ہی لوگوں نے دکانوں اور کاروباری اداروں کے شٹر بند کر دیے۔ دریں اثنا بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے کراچی یونیورسٹی کے 5 بلوچ طلبہ کو پاکستان رینجرز نے زبردستی اٹھا لیا ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق، جمعہ کی صبح ریاستی ہیڈ کوارٹر، کوئٹہ پہنچنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سوراب کی ضلع انتظامیہ نے شہریوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی مار دی جا سکتی ہے۔ ایسے افراد کسی بھی ممکنہ نقصان کے ذمہ دار ہوں گے۔ سوراب وسطی بلوچستان میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر واقع ہے۔

اس سے قبل بلوچستان کے علاقوں قلات اور مستونگ میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ زہری اور نوشکی میں گزشتہ کئی ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آزادی کا مطالبہ کرنے والے بلوچ گروپوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی شہریوں اور طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں رہنے والے پانچ بلوچ نوجوانوں کو پاکستان رینجرز نے اغوا کر لیا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کہا کہ یہ سب کراچی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ ان میں حیات کے دو بیٹے اظہر اور غوث بخش، شاہد کا بیٹا شہزاد، عظیم کا بیٹا انیس اور محمد امین کا بیٹا وسیم بلوچ شامل ہیں۔ انہیں بدھ کی رات 2 بجے کے قریب کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک فلیٹ پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ان سب کو دھکے مارتے ہوئے سامان کے ساتھ لے جایا گیا۔ پانچوں فلیٹ میں کرایے پر رہتے تھے۔

ہندوستھاسماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande