
کاٹھمنڈو، 07 اگست (ہ س):۔
بھارت اور نیپال کے درمیان طویل عرصے سے التوا کا شکار پنچیشور کثیر المقاصد منصوبے اور مہاکالی معاہدے سے متعلق دیگر امور پر ستمبر کے پہلے ہفتے میں دوطرفہ آبی وسائل اجلاس منعقد ہوگا۔ چار سال کے وقفے کے بعد ہونے والی یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کے شعبے میں تعاون کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اجلاس کے دوران بھارت-نیپال مشترکہ آبی وسائل کمیٹی اور آبی وسائل سے متعلق مشترکہ مستقل تکنیکی کمیٹی کے اجلاس بھی منعقد ہوں گے۔ ان میں ٹنک پور بیراج سے نیپال کی سرحد تک مجوزہ لنک نہر سمیت کئی اہم معاملات پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس کے ایجنڈے میں ٹنک پور-مہیندر نگر لنک روڈ، دودھارا-چاندنی علاقے میں آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی، سپت کوشی ہائی ڈیم کثیر المقاصد منصوبہ، اور سنکوشی-کملا اسٹوریج کم ڈائیورزن منصوبہ بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کوشی اور گنڈک منصوبوں سے متعلق مشترکہ کمیٹی اور آبی ذخائر، سیلاب اور نکاسی آب سے متعلق مشترکہ کمیٹی کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے۔
وزارتِ توانائی کے جوائنٹ سیکریٹری سشیل چندر آچاریہ نے تصدیق کی ہے کہ ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں پنچیشور منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔
ستمبر میں ہونے والا یہ اجلاس اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ تقریباً چار برس بعد دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل پر اعلیٰ سطح کی باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع ہوگی، جس سے طویل عرصے سے رکے ہوئے پنچیشور منصوبے کو آگے بڑھانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ