ایران کے قشم جزیرے کے آس پاس دھماکے، آبنائے ہرمز میں حالات نازک
تہران/واشنگٹن، 7 اگست (ہ س)۔ ایران کے قشم جزیرے کے آس پاس ہونے والے تازہ دھماکوں کے بعد آبنائے ہرمز میں حالات ایک بار پھر نازک ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکے ایک طرح سے تہران کے لیے انتباہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ ایران اس وقت دشمن ممالک کے بحری جہازوں کی آمدو
کیشم جزیرے


تہران/واشنگٹن، 7 اگست (ہ س)۔

ایران کے قشم جزیرے کے آس پاس ہونے والے تازہ دھماکوں کے بعد آبنائے ہرمز میں حالات ایک بار پھر نازک ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکے ایک طرح سے تہران کے لیے انتباہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ ایران اس وقت دشمن ممالک کے بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک بل تیار کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے مجوزہ بل پر بحث کی ہے۔ مجوزہ بل کے مطابق امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس ضابطے کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

گلف نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹ میں ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے یہ اطلاع دی گئی ہے۔ اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کے فقدان کے معاملے پر ایک بار پھر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر کبھی فوجی دھمکی دینے اور کبھی سفارت کاری کی بات کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے اعلان کیا ہے کہ کرمان صوبے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرنے کے الزام میں 21 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جمعرات کی رات ایران کے ہرمزگان صوبے میں واقع جنوبی کیشم جزیرے پر دو دھماکے ہوئے۔ یہ دھماکے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل ایرانی مسلح افواج کی دشمن فوج کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔ ہرمزگان کے سیاسی، سکیورٹی اور سماجی امور کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکام دھماکوں کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو سعودی عرب کے الحدث اور العربیہ نیوز چینلز نے خبر دی تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو 60 دن کے لیے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے خدوخال پر اتفاق ہوگیا ہے۔ چین کی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کو ابھی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری ملنا باقی ہے۔اس معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے بحری جہاز ایران کے قریب والے راستے کا استعمال کریں گے، جبکہ باہر نکلنے والے جہاز عمان کے قریب والے راستے سے گزریں گے۔ ان سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ کونسل کی منظوری ملنے کے بعد امریکہ اور ایران اپنے امن معاہدے کی جانب واپس بڑھتے ہوئے آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور اسے دوبارہ کھولنے کا اعلان کریں گے۔کہا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطہ برقرار ہے۔ یہ مذاکرات اب اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔ اس دوران ایران نے تہران میں داخلی سکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande