
صنعا(یمن)، 7 اگست (ہ س)۔ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے جمعرات کو کیے گئے شدید حملے میں کم از کم 30 سے 45 فوجی ہلاک ہوگئے۔ حوثی باغیوں نے ماریب اور حضرموت صوبوں میں سرکاری فوجی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے۔ ان حملوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 50 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ حوثیوں نے ہلاک و زخمی ہونے والے سرکاری فوجیوں کی تعداد سیکڑوں میں بتائی ہے۔ حوثی یمن کی ایک شدت پسند، سیاسی اور فوجی تنظیم ہے۔ یہ بنیادی طور پر یمن کے شمالی حصے کے زیدی شیعہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسے ایران کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
یمن کی خبر رساں ایجنسی ’سبا‘ کے ایکس اکاؤنٹ اور الجزیرہ کی ویب سائٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق سرکاری حکام ہلاک و زخمی فوجیوں کی تعداد 45 سے زیادہ بتا رہے ہیں۔ اپریل 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسے یمن میں سب سے ہلاکت خیز فوجی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران حوثی باغیوں کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حوثی باغیوں نے سرکاری فوج کے کیمپوں پر یکے بعد دیگرے آٹھ بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے، جس سے فوجی کیمپوں میں ہاہاکار مچ گئی۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حوثیوں کے حملے میں 30 فوجی ہلاک ہوئے۔ بعد میں بتایا گیا کہ جان گنوانے والے فوجیوں کی تعداد تقریباً 38 ہوگئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ حوثیوں نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق حوثیوں کے حملے میں زخمی 50 سے زائد فوجیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سری کا دعویٰ ہے کہ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو تقریباً دو بجے کیے گئے ان کے حملے میں سیکڑوں سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں یمن کی سرکاری فوج کے کیمپوں، اسلحہ ڈپو اور گاڑیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
یمن کی سرکاری فوج نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری فوجی ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے مارب کے شمال میں واقع الجوف صوبے سے آٹھ میزائل داغے۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ حوثیوں نے یمن کی سرکاری ہوم لینڈ شیلڈ فورسز، ایمرجنسی فورسز اور حضرموت میں فرسٹ ملٹری ریجن کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ ہوم لینڈ شیلڈ فورسز کا قیام 2022 میں سعودی عرب کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ یہ فورس مارب، حضرموت سرحد اور سعودی سرحد کی حفاظت کرتی ہے۔
اس فورس نے رواں سال کے آغاز میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی افواج کے خلاف بھی جنگ لڑی تھی۔ ایمرجنسی فورسز کا قیام 2025 کے آخر میں صدر کے حکم اور سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ یہ فورس الجوف اور حضرموت میں زمینی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ حوثیوں کے خلاف براہ راست محاذ پر بھی لڑتی ہے۔ فرسٹ ایمرجنسی ڈویژن کمانڈ نے بتایا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ فوجی تربیتی مشق کے لیے جمع ہوئے تھے۔
یمن میں صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی کے دفتر نے حملے کی تصدیق کی ہے۔ دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتحال پر 24 گھنٹے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اتحادی فوج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر شہید فوجیوں کے اہل خانہ اور رشتہ داروں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ یمن میں امریکی سفارتخانے نے ان حملوں کو بزدلانہ قرار دیا ہے۔ ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں امریکی مشن نے ہلاک و زخمی ہونے والے یمنی فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan