غزہ میں 300 دن کے دوران 300 بچے ہلاک، مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے بھی جاری: یونیسیف
نیویارک، 7 اگست(ہ س)۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے غزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 300 دنوں کے دوران کم از کم 300 بچے ہلاک ہوچکے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ ایک بچے کی جان گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس
یونیسیف غزہ


نیویارک، 7 اگست(ہ س)۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے غزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 300 دنوں کے دوران کم از کم 300 بچے ہلاک ہوچکے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ ایک بچے کی جان گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس عرصے میں سیکڑوں بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔یونیسیف نے کہا کہ غزہ میں شہریوں کو مسلسل شدید فوجی حملوں کا سامنا ہے، جن میں گولہ باری، فائرنگ اور بحری حملے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے، جہاں انہیں محفوظ رہائش، صاف پانی اور بنیادی طبی سہولیات تک رسائی کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اوچا کے مطابق ان واقعات کے نتیجے میں فلسطینیوں کے گھروں، املاک اور ذریعہ معاش کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق الخلیل کے علاقے مسافر یطہ میں اسرائیلی آبادکاروں نے رات کے وقت فلسطینی کمیونٹی الطوبا میں کئی گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے کے نتیجے میں 14 بچوں سمیت تین خاندان بے گھر ہوگئے، جنہیں بعد میں اپنے رشتہ داروں یا پڑوسیوں کے یہاں پناہ لینا پڑی۔

اوچا کے مطابق واقعے میں دو بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے، جبکہ دیگر املاک کے ساتھ ایک شمسی توانائی کا نظام اور مویشیوں کے لیے تقریباً 10 ٹن چارہ بھی تباہ کردیا گیا۔

اوچا نے بتایا کہ سال کے آغاز سے جولائی کے اختتام تک مغربی کنارے کی تقریباً 250 فلسطینی کمیونٹیز میں اسرائیلی آبادکاروں کے 1,380 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان واقعات میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے علاوہ بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔اقوام متحدہ کے مطابق یہ تعداد روزانہ اوسطاً 6 سے 7 حملوں کے برابر ہے۔ اسی مدت کے دوران آبادکاروں کے حملوں اور ان سے متعلق نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے باعث 2,300 سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے۔

اوچا نے ایک بار پھر زور دیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والے افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جانا ضروری ہے۔

دوسری جانب یروشلم گورنری کے قلندیا کیمپ میں اسرائیلی فوج نے ایک بڑی کارروائی شروع کی، جس کے باعث ہزاروں فلسطینی جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی علاقے میں محصور رہے۔اوچا کے مطابق انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو علاقے تک محفوظ رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کے تحفظ، زخمیوں اور ضرورت مندوں کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی اور لوگوں کے اپنے کام کی جگہوں تک پہنچنے کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں نے غزہ اور مغربی کنارے میں شہریوں، بالخصوص بچوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande