بنگلہ دیش کے سلہٹ اور بوگرا میں دو بسوں میں ٹکر،سات مزدوروں سمیت 15 افراد ہلاک
ڈھاکہ، 07 اگست (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں جمعہ کی صبح بوگرا میں سڑک کے کنارے کھڑے سات مزدوروں کے لیے ایک بس جان لیوا ثابت ہوئی۔ اسی طرح سلہٹ میں دو بسوں کے درمیان ٹکر میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بوگرا میں مزدوروں کی ہلاکت پر مشتعل افراد سڑک پر نک
BD-Road-Accidents-15-deaths


ڈھاکہ، 07 اگست (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں جمعہ کی صبح بوگرا میں سڑک کے کنارے کھڑے سات مزدوروں کے لیے ایک بس جان لیوا ثابت ہوئی۔ اسی طرح سلہٹ میں دو بسوں کے درمیان ٹکر میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بوگرا میں مزدوروں کی ہلاکت پر مشتعل افراد سڑک پر نکل آئے اور شاہراہ جام کردی۔ گزشتہ ماہ جولائی میں بھی سڑک حادثات میں 416 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی خبر کے مطابق، صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب بوگرا صدر کے سلکی بندھا کے ایرولیا علاقے میں کام کی تلاش میں سڑک کے کنارے کھڑے مزدوروں کے ایک گروپ کو ایک نجی بس نے ٹکر مار دی جس سے کم از کم سات مزدور ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے۔ بوگرا کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (میڈیا) عطا الرحمان نے واقعے کی تصدیق کی۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق ڈھاکہ سے نوگاو¿ں جانے والی شاہ فتح علی ٹرانسپورٹ کمپنی کی بس نے کارکنوں کو ٹکر مار دی۔ بارش سے بھیگی بوگرا-نوگاو¿ں ہائی وے پر بس پھسل کر بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی اور مزدوروں کو گھسیٹ کر لے گئی۔ تین مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ چار دیگر شہید ضیاءالرحمن میڈیکل کالج اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔ فائر سروس اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں نے مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

مرنے والوں میں سے صرف چار کی شناخت ہوئی ہے جن میں گائبندہ کے گوبند گنج کے امیر الاسلام اورنور عالم، بوگرا صدر کے فاپور کے بلال حسین اور جوئے پورہاٹ کے تاجمل شامل ہیں۔ حادثے کے بعد، باقی مزدوروں اور مقامی باشندوں نے بوگرا-نوگاو¿ں ہائی وے کو بلاک کر دیا اور جگہ پر اسپیڈ بریکر کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ مقامی کسان میزان الرحمن نے بتایا کہ سلکی بندھاکے علاقے میں اکثر حادثات پیش آتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں اسپیڈ بریکر بنانا ضروری ہو جاتا ہے۔ ارولیا یونین کونسل کے چیئرمین عتیق الرحمان عتیق نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور جیسے ہی اسپیڈ بریکر پر کام شروع ہو گا سڑک جام ختم کر دیا جائے گا۔

اس واقعے کے فوراً بعد ملک میں دوسرا سڑک حادثہ سلہٹ کے عثمانی نگر سب ڈسٹرکٹ کے دیامیر میں پیش آیا۔ دو بسوں کے درمیان ٹکر میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور تقریباً 25 زخمی ہو گئے۔ عثمانی نگر تھانے کے افسر غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس کے مطابق حادثہ ڈھاکہ سے سلہٹ جانے والی بنگال ٹرانسپورٹ کی بس اور سلہٹ سے ڈھاکہ جانے والی یونیک ٹرانسپورٹ کی بس کے درمیان ٹکر کے باعث پیش آیا۔

پولیس نے بتایا کہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ یونیک ٹرانسپورٹ کی بس سڑک کے کنارے کھائی میں گر گئی۔ مرنے والے تمام مسافر اسی بس کے تھے۔ زخمیوں کو سلہٹ کے ایم اے جی عثمانی میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی خبر کے مطابق بنگلہ دیش کی سڑکوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں کو اب بھی اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ روڈ سیفٹی فاو¿نڈیشن نے کہا کہ جولائی میں 458 سڑک حادثات پیش آئے جس کے نتیجے میں 416 اموات ہوئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande