
دہرادون، 6 اگست (ہ س)۔ اتراکھنڈ میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔ کئی ندیوں میں پانی کی سطح انتباہی اور خطرے کے نشان تک پہنچ گئی ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ آنے کے سبب بدری ناتھ، گنگوتری اور یمنوتری سمیت متعدد قومی شاہراہوں پر آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 اضلاع میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ صورت حال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے تمام آفات سے نمٹنے والی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔
بدھ کی دیر رات سے جمعرات کی صبح تک پوری ریاست میں مسلسل موسلا دھار بارش ہوتی رہی۔ راجدھانی دہرادون سمیت بیشتر اضلاع میں آسمان گھنے سیاہ بادلوں سے ڈھکا رہا اور کئی مقامات پر تیز بارش ہوئی۔ مسلسل بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے موسم ٹھنڈا ہوگیا۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ چوکس ہے۔ محکمہ موسمیات نے لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ بارش کا سلسلہ فی الحال جاری رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں دہرادون، باگیشور اور پتھورا گڑھ اضلاع کے بعض علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش، گرج چمک، آسمانی بجلی گرنے اور تیز ہواوں کا امکان ہے۔
مسلسل بارش کے دوران رودر پریاگ میں الکنندا اور منداکنی ندیاں خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ضلع ایمرجنسی آپریشن مرکز کے مطابق جمعرات کی صبح 8 بجے الکنندا کا آبی سطح 627.80 میٹر اور منداکنی کا 626.60 میٹر ریکارڈ کیا گیا، جو دونوں ندیوں کی مقررہ خطرے کی سطح سے بلند ہے۔ انتظامیہ نے بلدیاتی اداروں کے ذریعے لاوڈ اسپیکر سے مسلسل اعلان کر کے لوگوں کو ندی کناروں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ضلع میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اوکھی مٹھ میں 53.30 ملی میٹر اور جکھولی میں 59 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ضلع انتظامیہ نے تمام محکموں کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
دیو پریاگ میں بھاگیرتھی ندی کی سطح آب صبح 6 بجے 462.00 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو انتباہی سطح کے برابر ہے۔ اسی طرح ہری دوار ضلع کے رائسی علاقے میں بان گنگا ندی کی سطح آب 230.09 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو انتباہی سطح 230.00 میٹر سے 9 سینٹی میٹر اوپر ہے۔ متعلقہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو صورت حال پر مسلسل نظر رکھنے اور ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریاستی محکمہ آفات کے مطابق مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رشی کیش-یمنوتری قومی شاہراہ (این ایچ-134) سلائی بینڈ اور دربل کے قریب ملبہ اور پتھر گرنے سے بند ہے۔ رشی کیش-بدری ناتھ قومی شاہراہ (این ایچ-7) ضلع چمولی کے ہیلنگ علاقے میں ملبہ آنے سے متاثر ہوئی ہے۔ گنگوتری قومی شاہراہ بھی دھراسو-نالُو پانی کے قریب بند ہے۔
اس کے علاوہ کرن پریاگ-تھرالی-گوالدم قومی شاہراہ (این ایچ-109کے) آمسوڑ کے قریب اور دھارچولا-تواگھاٹ شاہراہ کولہ گاڑ علاقے میں ملبہ آنے کے باعث بند ہیں۔ تواگھاٹ-گونجی شاہراہ بھی کئی مقامات پر متاثر ہے۔ دوسری جانب رشی کیش-گنگوتری قومی شاہراہ پر پاپڑا گاڑ کے قریب چھوٹی گاڑیوں کی آمد و رفت جاری ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں کے لیے شاہراہ کھولنے کا کام جاری ہے۔
محکمہ آفات نے بتایا کہ رشی کیش-کیدار ناتھ قومی شاہراہ (این ایچ-107) پر تلواڑا اور بجنور-نجیب آباد-کوٹ دوار-ستپلی قومی شاہراہ (این ایچ-119) پر دگڈا کے قریب ملبہ ہٹا کر آمد و رفت بحال کر دی گئی ہے۔
ریاستی شاہراہوں میں کالسی-چکراتا شاہراہ جھاژریڈ کے قریب اور مارچولا- سرائی کھیت-بیجرو- پوکھڑا- ستپلی- پوڑی شاہراہ کے 107 ویں کلومیٹر پر ملبہ آنے سے آمد و رفت مسدود ہے۔ ان شاہراہوں کو کھولنے کے لیے مشینیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سکریٹری آفات سے ریاست بھر کی صورت حال کی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، ضلع انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کو باہمی تال میل کے ساتھ امدادی اور بچاو کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ضلع ایمرجنسی آپریشن مراکز کو 24 گھنٹے فعال رکھنے، حساس علاقوں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
انتظامیہ نے ریاست کے باشندوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی وارننگ پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں سے دور رہیں اور سفر شروع کرنے سے قبل موسم اور شاہراہوں کی تازہ صورت حال ضرور معلوم کرلیں۔
دریں اثنا، آسن ندی میں پانی کے بہاو میں اضافے اور اس کے ساتھ بڑی مقدار میں کچرا اور گھاس آنے کے باعث ٹریش ریک مکمل طور پر جام ہوگئی، جس کے نتیجے میں پاور چینل میں پانی چھوڑنا ممکن نہ رہا۔ اس صورت حال کے پیش نظر جمعرات کی صبح 8.15 بجے 5 طویل سائرن بجانے کے بعد ڈھالی پور میں واقع آسن بیراج کے گیٹ کھول کر یمنا ندی میں تقریباً 39 ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ یہ اخراج تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے یمنا ندی کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی کے قریب نہ جائیں اور مکمل احتیاط برتیں۔
دہرادون ضلع میں جمعرات کی صبح 8 بجے تک اوسطاً 32.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ضلع ایمرجنسی آپریشن مرکز کی رپورٹ کے مطابق ضلع میں ایک ریاستی شاہراہ اور 13 دیہی سڑکوں سمیت مجموعی طور پر 14 سڑکیں بند ہیں۔ اہم ندیوں کی سطح آب فی الحال انتباہی سطح سے نیچے ہے، جبکہ بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن