سپریم کورٹ نے آسارام کو صحت کی بنیاد پر عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا
نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے عصمت دری کے مقدمے میں سزا یافتہ آسارام کو صحت کی بنیاد پر عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم، جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ نے آسارام کو اپنی پسند کے ایک نگہداشت کرنے والے (کیئر ٹیکر) کی خدم
سپریم کورٹ نے آسارام کو صحت کی بنیاد پر عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا


نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے عصمت دری کے مقدمے میں سزا یافتہ آسارام کو صحت کی بنیاد پر عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم، جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ نے آسارام کو اپنی پسند کے ایک نگہداشت کرنے والے (کیئر ٹیکر) کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر مستقبل میں آسارام کی صحت بگڑتی ہے تو وہ عبوری ضمانت کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ آسارام کو اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم ان کی صحت کی 24 گھنٹے نگرانی ضروری ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران راجستھان حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا تھا کہ آسارام مکمل طور پر صحت مند ہیں اور تقریباً تین ماہ قبل وہ ایودھیا اور کاشی وشوناتھ کے دورے پر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آسارام نے یہ سفر پیدل طے کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 30 جون کو آسارام کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے راجستھان حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا، تاہم سزا معطل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے جیل میں آسارام کو فراہم کی جا رہی طبی سہولیات جاری رکھنے کا بھی حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ضمانت پر غور صرف اسی صورت میں کیا جائے گا جب ان کی صحت کو واقعی سنگین خطرہ لاحق ہو۔

آسارام گزشتہ تقریباً 11 برس سے راجستھان کی جودھ پور جیل میں قید ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواست ایک درجن سے زائد مرتبہ مسترد کی جا چکی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande