
نئی دہلی، 6 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا نے جمعرات کو جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بمباری کی 81ویں برسی کے موقع پر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی قیادت میں ایوان نے جوہری جنگ سے پیدا ہونے والے بھیانک انسانی سانحے کو یاد کیا اور عالمی امن، ہم آہنگی اور جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے لیے ہندوستان کے عزم کو دہرایا۔ اس کے بعد ایوان میں ہلاک شدگان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ آج سے 81 سال قبل جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر بالترتیب 6 اور 9 اگست 1945 کو جوہری بم گرائے گئے تھے۔ اس ہولناک سانحے میں لاکھوں معصوم لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور بے شمار افراد شدید متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پہلی بار پوری دنیا کو جوہری ہتھیاروں کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایوان دنیا کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے اپنے عزم کو ایک بار پھر دہراتا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے، عالمی امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتا ہے۔
اس کے بعد اسپیکر کی اپیل پر ایوان نے ہیروشیما اور ناگاساکی کی جوہری تباہی کے متاثرین کی یاد میں خاموشی اختیار کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ خراج عقیدت کے بعد اسپیکر اوم برلا نے ایوان میں جاری تعطل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین سے سوالیہ وقفہ چلانے میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک پارلیمنٹ کو بحث اور تبادلہ خیال کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور سوالیہ وقفہ جمہوری نظام کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام سوالیہ وقفے کے دوران اراکین پارلیمنٹ کے سوالات اور حکومت کے جوابات سننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اراکین سے اپنی نشستوں پر بیٹھ کر ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ اسپیکر نے کہا کہ ایوان بحث اور مکالمے کے لیے ہے، لیکن روزانہ منصوبہ بند طریقے سے تعطل پیدا کیا جا رہا ہے، جس سے ایوان کا وقار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹر لے کر آنا اور اس طرح کا طرز عمل پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے اور ملک بھی اس رویے کو دیکھ رہا ہے۔
اوم برلا نے یقین دلایا کہ ہر مسئلے، ہر موضوع اور ہر بل پر اراکین کو مناسب وقت دیا جائے گا اور وہ گفتگو کے ذریعے اپنی بات مؤثر انداز میں رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر تمام جماعتوں سے ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کی اپیل کی۔ مسلسل ہنگامے کے درمیان لوک سبھا اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد