لوک سبھا نے ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل 2026 کو منظوری دی
نئی دہلی، 6 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا نے جمعرات کو ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل، 2026 کو اپوزیشن ارکان کے مسلسل ہنگامے کے درمیان صوتی ووٹوں سے منظوری دے دی ۔ ایوان نے اس بل میں کچھ ترامیم کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ لوک سبھا سے بغیر کسی بحث کے من
Lok-Sabha-passes-Taxation-and-Other-Laws-Amendment


نئی دہلی، 6 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا نے جمعرات کو ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل، 2026 کو اپوزیشن ارکان کے مسلسل ہنگامے کے درمیان صوتی ووٹوں سے منظوری دے دی ۔ ایوان نے اس بل میں کچھ ترامیم کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔

لوک سبھا سے بغیر کسی بحث کے منظور ہونے والے اس بل کا مقصد ادائیگی اور تصفیہ کے نظام ایکٹ 2007 میں ترمیم کرنا ہے، جس سے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی ) پر مرچنٹ ڈسکاو¿نٹ ریٹ ( ایم ڈی آر ) کا نفاذ ہو سکتا ہے ۔ ایکٹ میں ترمیم کے علاوہ، بل میں ’مالیاتی قانون2026‘ اور انکم ٹیکس ایکٹ 2025 میں ترمیم اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں چھوٹ فراہم کرنے کے لیے جون میں جاری کیے گئے آرڈیننس کو منسوخ کرنے کی بھی تجویز ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نے منگل کو لوک سبھا میں ”ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل، 2026“ پیش کیا۔ سیتارمن نے اس بل کو ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت کا ”ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل، 2026“ کے پیچھے مقصد ملک کے ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کا مقصد مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو سپورٹ کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کا مقصد فنڈ مینجمنٹ کے قوانین کو آسان بنانا، ٹیکس مراعات میں اضافہ اور بعض غیر ملکی اداروں کو چھوٹ فراہم کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande