
جوشی نے بتایاکہ بھارت 2030 تک 500 گیگاواٹ کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے
نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔
مرکزی وزیر برائے نئی و قابلِ تجدید توانائی پرہلاد جوشی نے جمعرات کو کہا کہ بھارت کی غیر حیاتیاتی ایندھن (نان فوسل فیول) پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک 2030 تک 500 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کے اپنے ہدف کی جانب مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔
نئی دہلی میں منعقدہ ساتویں سی آئی آئی بین الاقوامی توانائی کانفرنس اور نمائش سے خطاب کرتے ہوئے جوشی نے بتایا کہ جنوری سے جون تک صرف چھ ماہ کے دوران غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 30.58 گیگاواٹ کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں بھارت نے 90 گیگاواٹ قابلِ تجدید یا غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت کا اضافہ کیا ہے۔ جوشی نے صنعتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ تحقیق و ترقی میں مزید سرمایہ کاری کریں۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد گھروں کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر چھ دن میں تقریباً ایک لاکھ نئے گھر شامل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گھروں کی چھتوں پر سولر پینل (روف ٹاپ سولر) نصب کرنے کی رفتار گزشتہ نو ماہ میں 3.2 گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں جہاں روزانہ تقریباً 5,000 سولر پلانٹس نصب کیے جا رہے تھے، وہیں جولائی میں یہ تعداد بڑھ کر 16,328 سے زائد روزانہ ہو گئی ہے۔
جوشی نے بتایا کہ اس وقت 19 لاکھ گھروں کو صفر بجلی بل موصول ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت 12 لاکھ سے زیادہ گھروں نے اضافی بجلی فروخت کرکے 421 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق یہ گھر صرف بجلی استعمال نہیں کر رہے بلکہ بجلی پیدا بھی کر رہے ہیں، جس سے ہر گھر کو سالانہ اوسطاً 3,500 روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔
جوشی نے بتایا کہ ملک میں روف ٹاپ سولر کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 14 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
سی آئی آئی کی اس بین الاقوامی توانائی کانفرنس اور نمائش میں 20 سے زائد ممالک کے پالیسی ساز، صنعتکار، عالمی نمائندے اور توانائی کے ماہرین شریک ہوئے۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور مرکزی وزیر برائے بھاری صنعت و فولاد ایچ ڈی کماراسوامی بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ