
کولکاتا، 6 اگست (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ میں بیک وقت آٹھ نئے ججوں کی تقرری کی منظوری دی گئی ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہائی کورٹ میں اتنی بڑی تعداد میں ججوں کی تقرری ایک ہی بار میں کی جا رہی ہے۔ امکان ہے کہ تمام نئے جج اگلے منگل کو حلف اٹھائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق 12 مئی کو سپریم کورٹ کالجیم نے کلکتہ ہائی کورٹ میں ججوں کے عہدے کے لیے نو وکلاءکے نام مرکزی حکومت کو بھیجے تھے۔ ان میں سے آٹھ ناموں کو راشٹرپتی بھون نے منظور کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے ہائی کورٹ میں ججوں کی طویل عرصے سے خالی آسامیوں کی تعداد میں کچھ حد تک کمی آئے گی۔
نئے مقرر کیے گئے ججوں میں آریک دت، اتروپ بندیوپادھیائے، سندیپ ڈے، پارتھا سارتھی رائے، سدیپ دیو، انوج سنگھ، ارجن رائے مکھوپادھیائے اور نشاد میدیرا شامل ہیں۔
ان آٹھ ججوں کے حلف برداری کے ساتھ کلکتہ ہائی کورٹ میں ججوں کی کل تعداد 49 ہو جائے گی۔ تاہم منظور شدہ عہدوں کی تعداد 72 ہے، اس لیے ابھی بھی بہت سی آسامیاں خالی رہیں گی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں ججوں کی تیزی سے تقرری ضروری ہے، کیونکہ جلپائی گڑی سرکٹ بینچ اب باقاعدگی سے کام کر رہا ہے، جس میں ہر 15 دن میں چار ججوں کو تعینات کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ججوں کو وقتا فوقتا پورٹ بلیئر سرکٹ بینچ کے لیے بھی بھیجنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ججوں کی تعداد میں اضافے سے عدالتی کاموں کے ہموارانعقاد اور زیر التواءمقدمات کے نمٹارے میں راحت ملنے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی