ترون تیج پال کو عصمت دری کے مقدمے میں دس سال قید کی سزا
بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے سیشن عدالت کا بریت کا فیصلہ منسوخ کر دیا، چار ہفتوں میں خودسپردگی کا حکمپنجی، 6 اگست (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے تہلکہ میگزین کے سابق مدیر ترون تیج پال کو عصمت دری کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے دس سا
CRIME GOA TARUN TEJPAL VERDICT


بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے سیشن عدالت کا بریت کا فیصلہ منسوخ کر دیا، چار ہفتوں میں خودسپردگی کا حکمپنجی، 6 اگست (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے تہلکہ میگزین کے سابق مدیر ترون تیج پال کو عصمت دری کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے دس سال کی سخت قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے انہیں چار ہفتوں کے اندر خودسپردگی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ جسٹس ڈاکٹر نیلا گوکھلے اور جسٹس امت جامسانڈیکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے شمالی گوا کی سیشن عدالت کا مئی 2021 کا وہ فیصلہ منسوخ کر دیا تھا، جس میں ثبوت ناکافی قرار دیتے ہوئے ترون تیج پال کو بری کر دیا گیا تھا۔ گوا حکومت نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

یہ مقدمہ نومبر 2013 کا ہے، جب تہلکہ کی ایک خاتون صحافی نے الزام لگایا تھا کہ گوا میں منعقدہ تھنک فیسٹ کے دوران 7 اور 8 نومبر کی درمیانی شب ایک ہوٹل کی لفٹ میں ترون تیج پال نے دو مرتبہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سیشن عدالت نے دستیاب شواہد کے بجائے واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کے طرزِ عمل پر زیادہ توجہ دی، جبکہ ترون تیج پال کی جانب سے بھیجی گئی معذرت پر مشتمل ای میل جیسے اہم شواہد کا مناسب جائزہ نہیں لیا گیا۔ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کو بھارتی تعزیرات ہند کی دفعات 376(2)(F)، 376(2)(K)، 354A اور 354B کے تحت مجرم قرار دیا۔ یہ دفعات عصمت دری، جنسی ہراسانی اور خاتون کے کپڑے اتارنے کی نیت سے حملہ کرنے جیسے جرائم سے متعلق ہیں۔واضح رہے کہ 21 مئی 2021 کو گوا کی سیشن عدالت نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے ترون تیج پال کو بری کر دیا تھا، تاہم گوا حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نچلی عدالت نے شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا اور متاثرہ خاتون کی گواہی کی غلط تشریح کی، جس کے بعد یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔مقدمے میں متاثرہ خاتون صحافی نے سب سے پہلے تہلکہ کی اُس وقت کی منیجنگ ایڈیٹر شوما چودھری کو ای میل کے ذریعے شکایت بھیجی تھی، جس میں انہوں نے تحریری معافی، تمام ملازمین کے سامنے واقعے کا اعتراف اور اندرونی جنسی ہراسانی شکایات کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد گوا پولیس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کیں۔ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، ای میلز، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد جمع کیے گئے، جس کے بعد ترون تیج پال کو گرفتار کیا گیا تھا۔دوسری جانب ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ترون تیج پال نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ تیرہ برس سے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ سیشن عدالت انہیں پہلے ہی بری کر چکی تھی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande