
نئی دہلی، 6 اگست (ہ س)۔ کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے مظاہرین طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے میں مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن کے صرف دو مطالبات ہیں۔ پہلا، وزیر اعظم کو طلبا سے معافی مانگیں اوراور دوسرا، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آکر پورے واقعے پر بیان دیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان مطالبات سےبچ رہی ہے جس سے پارلیمنٹ تعطل کا شکار ہے۔
کھرگے نے جمعرات کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اپوزیشن مسلسل یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ طلبا کے احتجاج کے دوران لاٹھی چارج، پیلٹ گن، آنسو گیس اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا۔ پرامن احتجاج کرنے والے طلبا بالخصوص طالبات کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا ،وہ ناقابل قبول ہے۔
کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں آئیں اور واضح کریں کہ لاٹھی چارج، پیلٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کافیصلہ کس سطح پر لیا گیا۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور دہلی پولیس وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے، اس لیے ان کارروائیوں کے لیے جوابدہی طے ہونی جانی چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 15 دنوں سے نہ تو وزیر داخلہ ایوان میں آ رہے ہیںاور نہ ہی وزیر اعظم اس معاملے پر کوئی بیان دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب صرف دو باتیں ہو سکتی ہیں یا تو حکومت پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دے رہی یا پھر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی تھی کہ طلبہ اپنی تحریک ختم کریں تو وزیر اعظم یا وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں آکر اپیل کر سکتے تھے اورمسئلے کے حل کی یقین دہانی کر سکتے تھے، لیکن ایسا بھی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے چیئرمین سے ملاقات کی اور وزیر اعظم سے معافی مانگنے اور وزیر داخلہ سے بیان کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین نے وزیر پارلیمانی امور کو یہ بھی بتایا کہ ایوان کے جذبات یہیں ہیں کہ وزیر داخلہ آکر اپنا موقف پیش کریں لیکن اس کے باوجود حکومت نے کوئی پہل نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بحث اور مکالمے کا فورم ہے اور اپوزیشن ہر موضوع پر چرچا کرنے کو تیار ہے لیکن حکومت احتساب سے گریز کر رہی ہے۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ جب بھی وہ قاعدہ 267 کے تحت کوئی اہم مسئلہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اپنی بات پوری نہیں کرنے دی جاتی ہے۔
کھرگے نے کہا کہ اگر وزیر اعظم طلبا سے یہ کہتے کہ ان کے ساتھ جو ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور حکومت اس پر افسوس کا اظہار کرتی ہے تو حالات معمول پر آ سکتے تھے۔ وزیر اعظم کو طلبا اور ان کے والدین سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ پولیس کی کارروائی سے انہیں شدید ذہنی اذیت پہنچی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعطل اپوزیشن کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت کی ضد کی وجہ سے ہے۔ اگر حکومت وزیر داخلہ کا بیان اور وزیراعظم کا ردعمل ایوان میں پیش کرے تو بحث آگے بڑھ سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کھرگے نے کہا کہ ایوان کی کارروائی آگے کیسے چلے گی، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کب اور کیسے اپنے خیالات پیش کرتی ہے۔ پہلے حکومت ایوان میں آئے، بیان دے، اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے ہو گا۔
جھارکھنڈ میں طلبا کے احتجاج کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کھرگے نے کہا کہ کانگریس ہر ریاست میں طلبا کے ساتھ کھڑی ہے۔ خواہ وہ جھارکھنڈ ہو، پنجاب ہو یا دہلی، اگر طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، کانگریس ان کی آواز اٹھاتی رہے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے لڑتی رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد