
نئی دہلی، 6 اگست (ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے قومی اہلیت اور داخلہ ٹیسٹ (نیٹ -یوجی) کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امتحانات سے متعلق اصلاحات کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں تشکیل دی گئی رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے میں ناکام رہنے کے بعد اب نندن نلیکنی کی قیادت میں تشکیل دی گئی ٹاسک فورس حکومت کی شبیہ کو بچانے کی محض ایک کوشش ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 2024 میں نیٹ-یوجی سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد، مرکزی حکومت نے امتحانی نظام میں بہتری کی تجویز دینے کے لیے کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے بعد، 2026 میں ایک بار پھر نیٹ -یوجی سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد، حکومت نے نندن نلیکنی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دے دی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نلیکنی ٹاسک فورس کو دیے گئے نو میں سے سات نکات پر رادھا کرشنن کمیٹی نے پہلے ہی مکمل طور پر کام کیا تھا، جبکہ باقی دو نکات پر بھی جزوی طور پر غور کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے رادھا کرشنن کمیٹی کی 101 سفارشات میں سے 27 کو بھی ابھی تک لاگو نہیں کیا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے 2024 اور 2026 کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے درمیان دو سال کے لیے کل وقتی ڈائریکٹر جنرل کا تقرر بھی نہیں کیا۔
جے رام رمیش نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ حکومت کے پاس رادھا کرشنن کمیٹی کی رپورٹ کو لاگو کرنے کی نہ تو سیاسی خواہش ہے اور نہ ہی وہ سنجیدہ ہے ۔ نندن نلیکنی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی نئی ٹاسک فورس وزیر اعظم کی شبیہ کے تحفظ کے لیے محض ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد