
لکھنؤ 06 اگست (ہ س)۔
اتر پردیش کے ضلع بلیا کی رسڑا اسمبلی نشست سے مسلسل تین بار منتخب ہونے والے رکن اسمبلی اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے سینئر رہنما اوما شنکر سنگھ کا بدھ کی شام دہلی میں انتقال ہوگیا۔ جمعرات کو ان کی میت کو آخری دیدار کے لیے لکھنؤ کے گومتی نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر رکھا گیا۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ اوما شنکر سنگھ جب سے بی ایس پی سے وابستہ ہوئے، انہوں نے پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے کبھی پارٹی سے غداری نہیں کی۔ وہ پارٹی میں رہتے ہوئے اپنے حلقے کے عوام کی خدمت کرتے رہے۔ ان کی طویل علالت کے بعد انتقال کی خبر سن کر مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں میری تمام ہمدردیاں ان کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ ہیں۔
مایاوتی نے کہا کہ اوما شنکر سنگھ ایک کاروباری شخصیت تھے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کاروباری افراد حکومت بدلنے پر اپنی پارٹیاں بھی بدل لیتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی پارٹی کو دھوکہ نہیں دیا۔ وہ مجھے اپنی سگی بہن کی طرح مانتے تھے۔ اس ماہ راکھی کا تہوار بھی ہے۔ چاہے میں لکھنؤ میں رہی ہوں یا دہلی میں، وہ ہر سال مجھ سے راکھی ضرور بندھواتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ایک بیٹا ہے۔ میں یہ یقین دلانا چاہتی ہوں کہ اگر ان کا خاندان چاہے تو میں ان کے بیٹے کو سیاست میں آگے بڑھانے میں ہر ممکن تعاون کروں گی۔ اگرچہ یہ موقع ایسی بات کہنے کا نہیں ہے، لیکن وہ خود بھی سیاست میں کافی سرگرم رہے ہیں۔ اگر خاندان کی خواہش ہوگی تو میں ان کے بیٹے کو اوما شنکر سنگھ کی جگہ اہمیت دوں گی۔ اوما شنکر سنگھ کے انتقال سے ہماری پارٹی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
بی ایس پی کے سینئر رہنما ستیش مشرا نے کہا کہ اوما شنکر ہمارے چھوٹے بھائی کی مانند تھے اور وہ ہمیشہ میرا بے حد احترام کرتے تھے۔
اتر پردیش اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا نے کہا کہ اوما شنکر سنگھ کے سب کے ساتھ خوشگوار، دوستانہ اور محبت بھرے تعلقات تھے۔ اسمبلی میں وہ جس مضبوط منطق اور مو¿ثر انداز میں اپنی بات رکھتے تھے، اس کا ہر جگہ چرچا ہوتا تھا۔ جب بھی وہ ایوان میں کوئی مسئلہ اٹھاتے تھے تو پوری اسمبلی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ