آسام کے 14 اضلاع میں سیلاب سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد متاثر، مزید پانچ لاشیں برآمد
گوہاٹی، 6 اگست (ہ س)۔ آسام میں آئے سیلاب سے بالائی آسام کے بنیادی طور پر چار اضلاع شیوساگر، چرائے دیو، جورہاٹ اور گولا گھاٹ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ندیوں کا سطح آب کم ہونے کے باوجود پانی اور کیچڑ لوگوں کے گھروں اور راستوں میں ابھی بھی پھیلا ہوا ہے
سیلاب سے متاثرہ خاندان مدد کے منتظر


گوہاٹی، 6 اگست (ہ س)۔ آسام میں آئے سیلاب سے بالائی آسام کے بنیادی طور پر چار اضلاع شیوساگر، چرائے دیو، جورہاٹ اور گولا گھاٹ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ندیوں کا سطح آب کم ہونے کے باوجود پانی اور کیچڑ لوگوں کے گھروں اور راستوں میں ابھی بھی پھیلا ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے سیلاب کا اثر 5 اضلاع تک سمٹ گیا تھا۔ فی الحال سیلاب نے 14 اضلاع کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔

آسام اسٹیٹ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے 05 اگست کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دھنسیری ندی (نوملی گڑھ) علاقے میں خطرے کے نشان سے ابھی بھی اوپر بہہ رہی ہے۔ اس دوران بدھ کو شیوساگر ضلع میں 2، گولا گھاٹ ضلع میں 1 اور بشوناتھ ضلع میں 2 لاشیں برآمد ہوئیں۔ اسی کے ساتھ سیلاب سے ریاست میں متوفیان کی کل تعداد 94 پہنچ گئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں گولا گھاٹ، لکھم پور، چرائے دیو، شیوساگر، بشوناتھ، دھیماجی، کامروپ (میٹرو)، جورہاٹ، شوپت پور، تنسکیا، نگاوں، درنگ، کاربی آنگلونگ اور ادالگوری شامل ہیں۔ سیلاب سے 14 اضلاع کے 38 ریونیو سرکلز کے کل 563 گاوں متاثر ہیں۔ اس وقت ریاست کی کل 160653 آبادی ابھی بھی متاثر ہے اور 16951.761 ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔

راحت و بچاو مہم میں ایس ڈی آر ایف، فوج/نیم فوجی دستے، این ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، ایئر فورس، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، سرکل آفس/مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس/ تربیت یافتہ رضاکار اور فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ مصروف ہیں۔ سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑک، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ بدھ کو مرکزی وزیر جے پی نڈا نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما کے ساتھ آسام کے سب سے زیادہ سیلاب متاثرہ شیوساگر اور چرائے دیو اضلاع کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرین کو بھروسہ دلایا کہ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ نڈا نے ناگالینڈ کے سیلاب متاثرہ مون ضلع کا بھی دورہ کیا۔ مرکزی وزیر نڈا تین روزہ آسام، ناگالینڈ اور اروناچل کے دورے پر 04 اگست کو ڈبرو گڑھ پہنچے تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande