

حصار (ہریانہ)، 6 اگست (ہ س)۔ ہریانہ کے شہر حصار میں رکن اسمبلی ساوتری جندل کے اسپتال (جندل اسپتال) کے قریب بدھ کی دیر رات 2 موٹر سائیکلوں پر سوار نقاب پوش شرپسندوں نے کانوڑ یاتریوں کے ایک جتھے پر اندھا دھند فائرنگ کرکے دہشت پھیلا دی۔ پانچ سے چھ مسلح حملہ آوروں نے اسپتال سے کچھ ہی فاصلے پر واقع دیانند کالونی کے شیو مندر اور تکونا پارک کے نزدیک کانوڑ یاتریوں کے گروپ پر تقریباً 6 راونڈ فائرنگ کی۔ فائرنگ کی زد میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد آگئے، جن میں میاں، بیوی اور ان کی 12 سالہ بیٹی شامل ہیں۔ تینوں شدید زخمی ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق واردات کے بعد حملہ آور آئی ٹی آئی چوک کی جانب فرار ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے زخمیوں کو فوری طور پر جندل اسپتال پہنچایا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق تینوں کی حالت فی الحال خطرے سے باہر ہے۔ پولیس کے مطابق دیانند کالونی کے رہائشی گووند (36) اپنی اہلیہ نشا (30) اور 12 سالہ بیٹی بیرا عرف گنو کے ساتھ کانوڑ لینے جا رہے اپنے بھانجے کو چھوڑنے شیو مندر گئے تھے۔ گووند کی پیٹھ، نشا کے بازو اور بیٹی بیرا کے سینے میں گولی لگی ہے۔
فائرنگ میں زخمی گووند کے بھائی گوتم نے بتایا کہ نشا کے بازو میں لگی گولی آر پار نکل گئی۔ کونسلر جگ موہن متّل اسی رات جندل اسپتال پہنچے اور رکن اسمبلی ساوتری جندل کو پورے واقعے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی گووند جندل فیکٹری کے ملازم ہیں۔ اربن اسٹیٹ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔
تھانہ انچارج انسپکٹر وکاس کمار نے بتایا کہ زخمیوں کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔ ملزمان کی شناخت اور ان کے فرار ہونے کے راستے کا سراغ لگانے کے لیے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق 2 مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت راہل اور مکیش کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت پہلے ہی کئی مقدمات درج ہیں۔ پولیس کی ٹیمیں مشتبہ افراد کے ممکنہ ٹھکانوں پر مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن