جلاوطنی کے 32برسوں کے  باوجود بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہیں تسلیمہ نسرین،شیخ حسینہ کی بھی واپسی کی حمایت کی
کولکاتا، 5 اگست (ہ س)۔ جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 32 برس سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور آج بھی اپنے وطن بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو بھی جمہوری حق کے تحت وطن واپس آ
جلاوطنی کے 32برسوں کے  باوجود بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہیں تسلیمہ نسرین،شیخ حسینہ کی بھی واپسی کی حمایت کی


کولکاتا، 5 اگست (ہ س)۔

جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 32 برس سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور آج بھی اپنے وطن بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو بھی جمہوری حق کے تحت وطن واپس آکر سیاست کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

بدھ کی صبح کولکاتا سے روانگی سے قبل نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیمہ نسرین نے کہا، ”میں 32 برس سے جلاوطنی میں ہوں۔ میں بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہوں، لیکن مجھے واپس نہیں جانے دیا جا رہا۔“

اس سے قبل منگل کو پانی ہاٹی میں بیگم رقیہ کی قبر پر حاضری دینے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش حکومت کو شیخ حسینہ کی جماعت پر عائد پابندی ختم کر دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ شیخ حسینہ اپنے ملک واپس جائیں اور انہیں سیاست کرنے کا حق دیا جائے۔

بنگلہ دیش میں جمہوریت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے تسلیمہ نسرین نے کہا کہ ایک جمہوری نظام میں تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر سیاست کی مخالف ہیں اور ان کے نزدیک ایسی سیاست اکثر خواتین کے حقوق کے منافی ہوتی ہے۔

بیگم رقیہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے انہیں روشن خیال اور انتہا پسندی مخالف ادیبہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1932 میں ان کی وفات کے بعد مسلم شدت پسندوں نے کولکاتا میں ان کی تدفین کی مخالفت کی تھی، جس کے بعد پانی ہاٹی میں ایک روشن خیال شخص کی نجی زمین پر رات کی تاریکی میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

تسلیمہ نسرین نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش حکومت ان کا پاسپورٹ تجدید نہیں کرتی اور ان کے سویڈش پاسپورٹ پر بھی بنگلہ دیش کا ویزا جاری نہیں کیا جاتا، جس کے باعث ان کے پاس وطن واپسی کے لیے کوئی قانونی سفری دستاویز موجود نہیں ہے۔

تقریباً 19 برس بعد بھارت آنے والی تسلیمہ نسرین نے کہا کہ وہ فی الحال بھارت ہی میں قیام کریں گی۔ انہوں نے کولکاتا کے قیام کو یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں انہیں لوگوں کی بے حد محبت ملی، جس سے وہ جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے اکتوبر، جنوری اور کولکاتا کتاب میلے کے موقع پر دوبارہ آنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

تسلیمہ نسرین 31 جولائی کو سیکولر مشن اور دو دیگر تنظیموں کی دعوت پر کولکاتا پہنچی تھیں۔ ان کے پورے دورے کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے استقبال اور مہمان نوازی پر منتظمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande