
پریاگ راج، 5 اگست (ہ س)۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ کے روز گرفتاری کے دوران آئینی تحفظات پر عمل درآمد کے حوالے سے پولیس کے رویے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے روایتی طور پر آئین کے آرٹیکل 22(1) کی دفعات کو شدید طور پر نظرانداز کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس اکثر گرفتاری کے اختیار کا استعمال کرتے وقت بنیادی حقوق کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے اور ان حقوق کے نفاذ سے متعلق عدالتی فیصلوں کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ ریمارکس ایک شخص کی گرفتاری اور ریمانڈ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دیے۔ عدالت نے پایا کہ درخواست گزار کو آئین کے آرٹیکل 22(1) کے مطابق نہ تو زبانی اور نہ ہی تحریری طور پر گرفتاری کی بنیادوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا، وردی میں ملبوس شخص اپنی تربیت، فرائض اور بعض اوقات حالات کے باعث حقوق، حتیٰ کہ بنیادی حقوق کو بھی کم اہمیت دیتا ہے۔ وہ ان حقوق کے نفاذ سے متعلق عدالتی فیصلوں اور شخصی آزادی کے تحفظ کے اصولوں کو کئی مرتبہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
ڈویژن بنچ نے مزید کہا کہ پولیس اہلکار اکثر ہر مشتبہ شخص اور ملزم کو پہلے ہی مجرم تصور کر لیتے ہیں۔ انہیں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ جرم کی حقیقت کو کسی اور سے، حتیٰ کہ جائے وقوعہ سے دور بیٹھے جج سے بھی بہتر سمجھتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پولیس اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتی ہے کہ ہر واقعے، ہر حقیقت اور ہر الزام کا دوسرا پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ قانون کی مناسب سمجھ نہ ہونے کے باعث پولیس اہلکار قانونی نتائج کا درست اندازہ نہیں لگا پاتے، جس کے باعث شخصی آزادی کے تحفظ سے متعلق عدالتی احکامات اور پولیس کی جانب سے ان کی مسلسل خلاف ورزی کے درمیان تصادم برقرار رہتا ہے۔
درخواست گزار راکیش نے اپنی گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ ان کے خلاف بھارتی نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اس کے سامنے یہ سوال نہیں تھا کہ الزامات درست ہیں یا نہیں، یا درخواست گزار ضمانت کا مستحق ہے یا نہیں۔ عدالت کے سامنے صرف یہ سوال تھا کہ آیا گرفتاری آئین کے آرٹیکل 22(1) اور متعلقہ قانونی دفعات کے مطابق کی گئی تھی یا نہیں۔
عدالت نے کہا کہ اگر آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی شخص کو گرفتار کیا جائے تو اسے اپنی آزادی واپس حاصل کرنے کا حق ہے، خواہ اس پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں۔ ریاستی حکومت نے گرفتاری کے میمورنڈم اور جنرل ڈائری کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے پایا کہ ان دستاویزات میں گرفتاری کے حقیقی حقائق اور بنیادوں کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ گرفتاری کے میمورنڈم میں صرف چھپے ہوئے عمومی اسباب درج تھے، جیسے تفتیش کے لیے گرفتاری ضروری ہے، شواہد سے چھیڑ چھاڑ روکنا مقصود ہے یا ملزم کی عدالت میں موجودگی یقینی بنانا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اس مخصوص معاملے میں کن حقائق اور الزامات کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ گرفتاری کی وجوہات اور گرفتاری کی بنیادیں دو الگ الگ قانونی تصورات ہیں۔
ہائی کورٹ نے ریمانڈ مجسٹریٹ کے طرزِ عمل پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ نے صرف ایک مطبوعہ فارم پر رسمی حکم جاری کرتے ہوئے عدالتی تحویل کی اجازت دے دی، جبکہ انہیں پہلے یہ یقینی بنانا چاہیے تھا کہ ملزم کو آئین کے مطابق گرفتاری کی بنیادوں سے آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ عدالت نے اسے ایسی روایتی مثال قرار دیا جہاں آئینی تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنائے بغیر ریمانڈ کا حکم جاری کر دیا گیا۔
ان حالات میں ہائی کورٹ نے عرضی منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کی گرفتاری اور ریمانڈ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 91 کے تحت ضمانتی مچلکہ پیش کرنے پر اسے رہا کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے سنبھل کے ضلع و سیشن جج کو ہدایت دی کہ ان کے انتظامی اختیار میں آنے والے تمام مجسٹریٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کسی بھی ملزم کو صرف مطبوعہ فارم کی بنیاد پر مشینی انداز میں پولیس یا عدالتی ریمانڈ پر نہ بھیجا جائے۔ ریمانڈ دینے سے پہلے لازماً یہ جانچ کی جائے کہ آیا ملزم کو آئین کے آرٹیکل 22(1) کے مطابق گرفتاری کی بنیادوں سے آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد