
دہرادون، 5 اگست (ہ س)۔ چیف الیکشن آفیسر ڈاکٹر بی وی آرسی پروشوتّم نے بدھ کے روز سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور مختلف نکات پر ان کی آراء حاصل کیں۔ اب تک تقریباً 19 لاکھ نوٹس بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) کے ذریعے ووٹروں تک پہنچائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ معمولی نوعیت کی بے ضابطگیوں سے متعلق نوٹسوں کا ازالہ بی ایل او کی سطح پر ہی دستاویزات کی جانچ کے بعد کیا جائے، تاکہ ووٹروں کو غیر ضروری دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں چیف الیکشن آفیسر نے بتایا کہ 24 لاکھ نوٹسوں کے مقابلے میں اب تک تقریباً 19 لاکھ (77 فیصد) نوٹس بی ایل او کے ذریعے ووٹروں تک پہنچائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک فارم-6 کے 93 ہزار سے زائد، فارم-7 کے 1.39 لاکھ اور فارم-8 کے 40 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ فارم-7 سے متعلق معاملات میں ای آر او اور اے ای آر او کی سطح پر تصدیق کے بعد قواعد کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دعووں اور اعتراضات کے عمل کے دوران ایک ووٹر زیادہ سے زیادہ پانچ معاملات میں درخواست پیش کر سکتا ہے۔ اس سے زیادہ درخواستیں موصول ہونے کی صورت میں ای آر او خود جانچ اور تصدیق کریں گے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 10 فارم جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ نظرِ ثانی کی مدت کے دوران اگر 30 فارم جمع ہوتے ہیں تو ای آر او خود ان کی جانچ کر کے ضروری کارروائی کریں گے۔
چیف الیکشن آفیسر نے تمام اضلاع کو ہدایت دی کہ معمولی بے ضابطگیوں والے نوٹسوں کا ازالہ بی ایل او کی سطح پر ہی دستاویزات کی تصدیق کے بعد کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی جن ووٹروں کی میپنگ نہیں ہو سکی ہے، ان معاملات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ای آر او اور اے ای آر او کی سطح پر سماعت کر کے قواعد کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔
میٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے راج کمار پروہت، کانگریس کی جانب سے سوریا کانت دھسمانا اور امیندر بشٹ، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی جانب سے ستیندر چوپڑا اور جسپال، جبکہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کی جانب سے اننت آکاش سمیت دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد