حکومت 16 سے 18 اگست تک پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کر سکتی ہے، حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق ترمیمی بل لانے کی تیاری
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔ مرکزی حکومت 13 اگست 2026 کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام کے بعد 16 سے 18 اگست تک تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں حلقہ بندی اور خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بلوں
حکومت 16 سے 18 اگست تک پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کر سکتی ہے، حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق ترمیمی بل لانے کی تیاری


نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔

مرکزی حکومت 13 اگست 2026 کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام کے بعد 16 سے 18 اگست تک تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں حلقہ بندی اور خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بلوں پر بحث کر کے انہیں منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مانسون اجلاس کے اختتام کے فوراً بعد اجلاس کا باضابطہ اختتام (پروگیشن) نہیں کیا جائے گا، تاکہ ضرورت پڑنے پر مختصر نوٹس پر خصوصی اجلاس بلایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میں کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کو خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔ حکومت نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ وہ 16، 17 اور 18 اگست کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا چاہتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس اس تجویز پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ان اہم آئینی ترمیمی بلوں کی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں میں درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر مطلوبہ عددی حمایت حاصل ہو گئی تو تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں 50 فیصد اضافہ کرنے اور آئندہ لوک سبھا انتخابات سے 33 فیصد خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے کی تجویز شامل ہو سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد حکومت دونوں ایوانوں میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر نشستوں میں اضافے کی واضح قانونی ضمانت دی جاتی ہے تو بعض علاقائی جماعتیں بھی حکومت کی حمایت کر سکتی ہیں۔

خصوصاً جنوبی بھارت کی علاقائی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے حکومت حلقہ بندی بل میں نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی تحریری شق شامل کر سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande