
رانچی، 5 اگست(ہ س)۔
جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) میں مبینہ بدعنوانی سے پاک بھرتی کے مطالبے کو لے کر طلبہ لیڈر دیویندر ناتھ مہتو کی قیادت میں جاری احتجاج بدھ کو بھی جاری رہا۔ دھرنے کا بارہواں اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا چوتھا دن ہونے کے باوجود مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم رہے۔احتجاج کے دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے ویڈیو کال کے ذریعے تقریباً آدھے گھنٹے تک دیویندر ناتھ مہتو سے گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے تحریک کی موجودہ صورتحال، مہتو کی صحت اور احتجاج میں شریک طلبہ کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔سونم وانگچک نے کہا کہ جمہوری نظام میں پرامن اور عدم تشدد پر مبنی جدوجہد ہی سب سے مؤثر ذریعہ ہوتی ہے۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ تحمل، صبر اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھیں۔ اس دوران انہوں نے دیویندر ناتھ مہتو اور احتجاج کرنے والے طلبہ کا حوصلہ بھی بڑھایا۔گفتگو کے دوران سونم وانگچک کی درخواست پر دیویندر ناتھ مہتو نے پانی پیا۔ مہتو نے وانگچک سے رانچی آ کر احتجاجی طلبہ سے ملاقات کرنے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کی بھی درخواست کی، جس پر وانگچک نے مثبت جواب دیتے ہوئے مناسب وقت پر آنے کا یقین دلایا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیویندر ناتھ مہتو نے کہا کہ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کی مختلف بھرتی کارروائیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث امیدواروں میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ان معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کرائی جاتیں اور امیدواروں کے مطالبات پر حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اور اطمینان بخش فیصلہ نہیں کیا جاتا، ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اور ستیہ گرہ تحریک جاری رہے گی۔مہتو نے کہا کہ یہ تحریک مکمل طور پر پرامن اور جمہوری انداز میں چلائی جا رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ریاست کے مختلف اضلاع سے امیدواروں اور نوجوانوں کی مسلسل حمایت حاصل ہو رہی ہے، جس سے تحریک کو مزید تقویت مل رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد مثبت اقدام کرتے ہوئے امیدواروں کے مسائل کا حل نکالے اور بھرتی کے عمل سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات کا منصفانہ تصفیہ کرے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan