معیاد مکمل کر چکی وولوو کاروں میں ایندھن بھروانے کی اجازت سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔ سپریم کورٹ نے مدتِ معیاد پوری کر چکی بعض وولوو کاروں کے مالکان کی اس عرضی پر سماعت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جس میں دہلی میں ان گاڑیوں میں ایندھن بھرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے پیش وکیل
معیاد پوری کر چکی وولوو کاروں میں ایندھن بھروانے کی اجازت سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت


نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔

سپریم کورٹ نے مدتِ معیاد پوری کر چکی بعض وولوو کاروں کے مالکان کی اس عرضی پر سماعت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جس میں دہلی میں ان گاڑیوں میں ایندھن بھرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے پیش وکیل نے بدھ کو چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے روبرو جلد سماعت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وولوو کاریں طویل عرصے تک استعمال کے لیے تیار کی جاتی ہیں، لیکن انہیں دہلی-این سی آر کے پٹرول پمپوں پر ایندھن فراہم نہیں کیا جا رہا۔

اس پر عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ فضائی آلودگی سے متعلق ہے، تاہم عرضی پر سماعت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے 10 سال پرانی ڈیزل اور 15 سال سے زیادہ پرانی پٹرول گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر 2018 میں سپریم کورٹ نے بھی مہر ثبت کر دی تھی۔ اس کے بعد ایسی گاڑیوں کو پٹرول پمپوں سے ایندھن فراہم کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

عرضی گزاروں کا مو¿قف ہے کہ گاڑیوں پر پابندی ان کی عمر کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان سے خارج ہونے والے مضر اخراج کی بنیاد پر عائد کی جانی چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande