
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کے بجائے، ان کو سمجھنا اور ان کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر کچھ گمراہ لوگ پتھر بازی کا سہارا لیتے ہیں، تب بھی ان کو سمجھنا اور ان کے ساتھبات چیت کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ نوجوانوں کو مشورہ اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت حد سے زیادہ سخت یا جارحانہ رویہ اپناتی ہے تو اس سے معاشرے میں تناو مزید بڑھ سکتا ہے اور ایسی صورتحال سے گریز کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نوجوانوں کی بات سننا اور سمجھنا ضروری ہے کہ وہ احتجاج اور نعرے بازی کیوں کر رہے ہیں۔ تاہم چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ بالآخر یہ فیصلہ امن و امان کے اداروں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ انہیں ایسے حالات سے نمٹنے کا تجربہ ہے۔ وہ آپ یا مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ایسے حالات کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔
سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ طلبہ کے احتجاج کی آڑ میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے نوجوانوں کو سبق سکھانے کے لیے سات دن کی کمیونٹی سروس دی جائے۔ احتجاج کے منتظمین کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
حال ہی میں کاکروچ جنتا پارٹی نے پیپر لیک کو لے کر جنتر منتر پر احتجاج کیا۔ پارلیمنٹ کی طرف طلباءکے مارچ کے دوران پولیس کی بربریت کی شکایات موصول ہوئیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی