راجیہ سبھا سے سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل-2026 منظور، عدالت عظمیٰ میں ججوں کی تعداد 38 ہوگی
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا نے بدھ کے روز سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل-2026 منظور کر لیا، جس کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ بل 3
راجیہ سبھا سے سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل-2026 منظور، عدالت عظمیٰ میں ججوں کی تعداد 38 ہوگی


نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا نے بدھ کے روز سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل-2026 منظور کر لیا، جس کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ بل 3 اگست کو لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا ہے۔ صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے کہا کہ نریندر مودی حکومت ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس“ کے اصول کے تحت عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور یہ بل بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ عدالتی نظام میں ایک اہم اصلاح ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر ججوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

وزیر قانون نے کہا کہ آئینی بنچوں کی تشکیل کے باعث معمول کے مقدمات کی سماعت متاثر ہوتی ہے۔ حال ہی میں نو رکنی آئینی بنچ کی تشکیل کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے اہم مقدمات کے باعث دیگر مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہوتی ہے، جس سے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کی جا رہی ہے، جس سے زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے میں مدد ملے گی، ایک وقت میں زیادہ مقدمات کی سماعت ممکن ہوگی اور آئینی بنچوں کی تشکیل بھی زیادہ باقاعدگی سے کی جا سکے گی۔

میگھوال نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے عام شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کی آزادی کا مکمل احترام کرتی ہے اور علاقائی بنچوں کے قیام کے معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے سبری مالا مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نو رکنی آئینی بنچ کی تشکیل کے باعث دیگر مقدمات کی سماعت کے لیے دستیاب ججوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لہٰذا ججوں کی تعداد میں اضافہ عدالتی نظام کو مزید مو¿ثر بنائے گا۔

خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے وزیر قانون نے کہا کہ ملک جلد ہی اپنی پہلی خاتون چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو دیکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں ایک اور خاتون جج کی تقرری بھی کی گئی ہے۔

اس سے قبل بل پر ہونے والی بحث میں تقریباً 33 ارکانِ پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے رکن وویک تنکھا نے حکومت کی جانب سے آرڈیننس لانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ میں تقریباً 95 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں تو صرف ججوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا، بلکہ جامع عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ پی ولسن نے عدلیہ میں تنوع اور نمائندگی بڑھانے پر زور دیا، جبکہ بی جے پی کے رکن منن کمار مشرا نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے ساتھ ماتحت عدلیہ میں خالی اسامیوں کو پ±ر کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

بی جے پی کی رکن سنگیتا یادو نے بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے تاریخی اور دور اندیش قدم قرار دیا اور کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھنے سے عوام کو سستا، مو¿ثر اور فوری انصاف ملنے میں مدد ملے گی۔

ترنمول کانگریس کی ڈاکٹر مینکا گروسوامی نے کہا کہ ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں تقریباً 30 فیصد ججوں کے عہدے خالی ہیں اور اگر ان اسامیوں کو بروقت نہ بھرا گیا تو صرف سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

ڈی ایم کے کے آر گری راجن نے کہا کہ ججوں کی تعداد میں اضافے سے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، جبکہ بیجو جنتا دل کے ڈاکٹر سسمت پاترا نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

وائی ایس آر کانگریس کے ایس نرنجن ریڈی نے کہا کہ فی جج مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے عدالتی نظام پر اضافی دباو¿ پڑا ہے۔

شیوسینا کی ڈاکٹر جیوتی این واگھمارے نے کہا کہ اس قانون سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

بل کی منظوری کے بعد اسے آئندہ پارلیمانی کارروائی کے لیے لوک سبھا کو بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں راجیہ سبھا میں خصوصی ذکر کے تحت ارکان نے عوامی مفاد سے متعلق مختلف مسائل اٹھائے۔ دن بھر کی کارروائی مکمل ہونے پر ڈپٹی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی جمعرات کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande