
نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے 13ویں دن بدھ کو کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوںکے ارکان پارلیمنٹ نے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، رام مندر کے چندے کی مبینہ چوری اور دیگر معاملات کو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا سمیت اپوزیشن کے کئی ارکان نے پارلیمنٹ احاطے میں واقع گاندھی مجسمے سے مکر دروازہ تک احتجاجی مارچ بھی نکالا۔احتجاج میں کانگریس، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے شریک ہوئے۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، جس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جانا چاہیے۔ اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں آکر اس معاملے اور دیگر اٹھائے گئے مسائل پر حکومت کا مؤقف واضح کریں۔کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ اگر طلبہ کے خلاف گولی، پیلیٹ گن، آنسو گیس یا لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا ہے تو اس کی ذمہ داری ضرور کسی نہ کسی پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے کسی افسر یا حکومت کی سطح پر کیے جاتے ہیں، اس لیے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے اور جمہوری روایات کے مطابق حکومت کو جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے بھی احتجاج کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بانسوری سوراج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف راہل گاندھی کے خلاف مقدمات درج کرانے میں سرگرم رہتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بانسوری سوراج کو قانون کی درست سمجھ نہیں ہے اور وہ جب چاہیں پولیس تھانے پہنچ جاتی ہیں۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران مختلف سیاسی اور عوامی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے، جس کے باعث ایوان کی کارروائی بھی متعدد بار متاثر ہو رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan