
لکھنو، 05 اگست (ہ س)۔ کانپور-لکھنو ایکسپریس وے کے کلومیٹر 64 کے پاس سڑک میں ہوئے دھنساو کے معاملے میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ این ایچ اے آئی نے کام کرنے والی ایجنسی پی این سی انفراٹیک لمیٹڈ کو نان پرفارمر قرار دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے وجہ بتاو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمپنی پر پرفارمنس سیکورٹی کے دو فیصد کے برابر جرمانہ لگانے اور مستقبل کے این ایچ اے آئی پروجیکٹوں میں اس کی اہلیت متاثر کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
یہ معلومات بدھ کو این ایچ اے آئی کے علاقائی افسر گوتم وشال نے راجدھانی لکھنو کے گومتی نگر میں واقع دفتر میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کو دی۔ انہوں نے بتایا کہ 26 جولائی کو کانپور لکھنو کے درمیان نو تعمیر شدہ ایکسپریس وے کے کلومیٹر 64 کے پاس سڑک کا ایک حصہ دھنس گیا تھا۔ اس کے بعد این ایچ اے آئی نے فوری بحالی کا کام شروع کرایا۔ فی الحال متاثرہ حصے پر ٹریفک ڈائیورٹ کر دیا گیا ہے اور گاڑیوں کی آمدورفت باقاعدہ طور پر کرائی جا رہی ہے۔
این ایچ اے آئی نے کام کرنے والی ایجنسی کو متاثرہ حصے کی پوری مرمت اپنے خرچ پر کرانے کی ہدایت دی ہے۔ مرمت پر تقریباً تین کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس رقم کا بوجھ این ایچ اے آئی پر نہیں پڑے گا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی پیومنٹ کنڈیشن انڈیکس ریٹنگ ڈاون گریڈ کرنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ کی نگرانی اور دیکھ بھال میں لاپرواہی ملنے پر تعمیری ایجنسی کے پروجیکٹ منیجر وویک کمار گپتا، آزاد انجینئر کے ٹیم لیڈر سریندر کمار اور ریذیڈنٹ انجینئر یتیندر کمار کو پروجیکٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تینوں کو دو سال تک وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ، این ایچ اے آئی اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کے کسی بھی پروجیکٹ میں کام کرنے سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نکول پرکاش ورما کو ان کے اصل شعبے میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وہیں، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر سوربھ چورسیہ اور موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نکول پرکاش ورما کے خلاف مبینہ لاپرواہی کو لے کر چارج شیٹ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
پروجیکٹ کی آزاد انجینئر کمپنی میسرز تھیم انجینئرنگ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف بھی این ایچ اے آئی نے کارروائی شروع کی ہے۔ کمپنی کو مستقبل کے این ایچ اے آئی پروجیکٹوں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ڈی بارمنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔
این ایچ اے آئی اب پورے پروجیکٹ ایریا کی سڑک کی کوالٹی کی جانچ کرا رہا ہے۔ اس کے لیے لیزر پروفائلومیٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے سڑک کی سطح اور پیومنٹ کی صورتِ حال کا تفصیلی تخمینہ لگایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے پروفیسر کے ایس ریڈی کی قیادت میں پیومنٹ ماہرین کی ٹیم دھنساو کی تکنیکی جانچ کرے گی۔ کمیٹی دھنساو کی اصل وجوہات کا پتہ لگا کر ضروری اصلاحی اقدامات کی سفارش کرے گی۔
این ایچ اے آئی نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ حصے میں پوری طرح سے درستگی کا کام ہونے تک ایکسپریس وے پر ٹول وصولی ملتوی رہے گی۔ اس دوران مسافروں سے کوئی ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ ٹول آمدنی میں ہونے والے نقصان کی وصولی کام کرنے والی ایجنسی سے کی جائے گی۔ این ایچ اے آئی کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہیں بنانے اور ان کی دیکھ بھال میں کوالٹی، سیکورٹی اور جواب دہی کے معیار سے کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن