کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے دھنسنے کے معاملے میں این ایچ اے آئی کی بڑی کارروائی، پی این سی انفراٹیک کے خلاف سخت اقدامات
نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔ کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر سڑک دھنسنے کے واقعے کے بعد بھارتی قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے آئی) نے تعمیراتی کمپنی، آزاد انجینئرنگ ایجنسی اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ اتھارٹی نے تعمیراتی کمپنی پی
کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے دھنسنے کے معاملے میں این ایچ اے آئی کی بڑی کارروائی، پی این سی انفراٹیک کے خلاف سخت اقدامات


نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔

کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر سڑک دھنسنے کے واقعے کے بعد بھارتی قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے آئی) نے تعمیراتی کمپنی، آزاد انجینئرنگ ایجنسی اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ اتھارٹی نے تعمیراتی کمپنی پی این سی انفراٹیک لمیٹڈ کو نان پرفارمر قرار دینے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ ایکسپریس وے پر عارضی طور پر ٹول وصولی بھی روک دی گئی ہے۔

مرکزی وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مطابق 63 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے پر 26 جولائی کو کلومیٹر 64 کے قریب تقریباً 300 میٹر طویل حصہ دھنسنے (سلپج) کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے بعد این ایچ اے آئی نے فوری طور پر مرمتی کام شروع کرایا اور متاثرہ حصے کی جامع تکنیکی جانچ کا حکم دیا۔

این ایچ اے آئی نے پی این سی انفراٹیک لمیٹڈ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کمپنی پر کارکردگی کی سیکورٹی رقم کا دو فیصد جرمانہ عائد کرنے، ذمہ دار افسران کو تین سال کے لیے بلیک لسٹ (ڈی بار) کرنے اور کمپنی کی درجہ بندی (ریٹنگ)کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔اتھارٹی نے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے خرچ پر تقریباً تین کروڑ روپے کی لاگت سے متاثرہ حصے کی مرمت کرے، تاکہ حکومت یا این ایچ اے آئی پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔

منصوبے میں مبینہ غفلت برتنے پر تعمیراتی کمپنی کے پروجیکٹ منیجر وویک کمار گپتا، آزاد انجینئرنگ ایجنسی کے ٹیم لیڈر سریندر کمار اور ریذیڈنٹ انجینئر یتیندر کمار کو منصوبے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں آئندہ دو سال تک وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ، این ایچ اے آئی اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کے کسی بھی منصوبے میں خدمات انجام دینے سے روک دیا گیا ہے۔

مزید برآں موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نکُل پرکاش ورما کو ان کے اصل محکمے واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر سوربھ چورسیا اور نکُل پرکاش ورما کے خلاف مبینہ لاپروائی کے الزام میں فردِ جرم (چارج شیٹ) جاری کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔این ایچ اے آئی نے منصوبے کی آزاد انجینئرنگ فرم تھیم انجینئرنگ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو بھی مستقبل کے منصوبوں سے بلیک لسٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔اتھارٹی نے ایکسپریس وے کی مجموعی حالت کا جائزہ لینے کے لیے لیزر پروفائلومیٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے پروفیسر کے ایس ریڈی کی سربراہی میں ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو واقعے کی تکنیکی وجوہات کا جائزہ لے کر اصلاحی اقدامات کی سفارش کرے گی۔این ایچ اے آئی نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ حصے کی مکمل مرمت تک ایکسپریس وے پر کسی بھی گاڑی سے ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، جبکہ ٹول بند رہنے سے ہونے والے مالی نقصان کی بھرپائی بھی تعمیراتی کمپنی سے ہی وصول کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande