لوک سبھا نے ’بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026‘ کو صوتی ووٹوں سے دی منظوری
- لوک سبھا کی کارروائی جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی نئی دہلی، 05 اگست (ہ س): ۔ لوک سبھا نے بدھ کے روز اپوزیشن ارکان کے مسلسل ہنگامے کے درمیان بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ایوان میں ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی
لوک سبھا نے ’بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026‘ کو صوتی ووٹوں سے دی منظوری


- لوک سبھا کی کارروائی جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی

نئی دہلی، 05 اگست (ہ س): ۔

لوک سبھا نے بدھ کے روز اپوزیشن ارکان کے مسلسل ہنگامے کے درمیان بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ایوان میں ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی 6 اگست کو صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

لوک سبھا سے منظور شدہ اس بل کا مقصد بینکوں کے ریکارڈ سے متعلق شواہد کے لیے ایک نیا قانونی فریم ورک فراہم کرنا اور اسے موجودہ ڈیجیٹل بینکاری نظام کے مطابق بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے متعلق دیگر معاملات کے لیے بھی قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مرکزی وزیر برائے خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتا رمن نے پیر کے روز لوک سبھا میں بینکرز بکس ایویڈنس بل-2026 پیش کیا تھا۔ یہ بل نوآبادیاتی دور کے 125 سال پرانے بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ، 1891 کی جگہ لے گا۔

بل کا مقصد بینکاروں کے ریکارڈ سے متعلق شواہد کے قانون کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ موجودہ ڈیجیٹل بینکاری نظام کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بینکوں کے ریکارڈ کی الیکٹرانک یا ڈیجیٹل نقول عدالت میں قابلِ قبول، قانونی طور پر مو¿ثر اور قابلِ نفاذ ثبوت تصور کی جائیں گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande